ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 278 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 278

اس نے ساری ملامت اور عدم سامان کی کوفت کو دور کردیا اور دوسرے دن سوموار کو جب ہم سب خدّام صحن اندرون خانہ میں بیٹھے تھے اور صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کا سر مونڈا جا رہا تھا۔حضرت اقدسؑ نے کس جوش سے یہ رؤیا سنائی۔۶۴؎ ۳۰ ؍جون ۱۸۹۹ء رات کو امراض وبائیہ کا تذکرہ ہوا۔فرمایا۔یہ ایّام برسات کے معمولاً خطرناک ہوا کرتے ہیں۔ہند کے طبیب کہتے ہیں ان تین مہینوں میں جو بچ رہے وہ گویا نئے سرے پیدا ہوتا ہے۔پھر فرمایا۔یہ جاڑا بھی خوفناک ہی نظر آتا ہے۔فرمایا۔اطبّاء بڑے بڑے پرہیزوں اور حفظِ ماتقدم کے لیے احتیاطیں بتاتے ہیں اگرچہ سلسلہ اسباب کا اور اُن کی رعایت درست ہے، مگر میں کہتا ہوں کہ محدودالعلم ضعیف انسان کہاں تک بچار بچار کر غذا اور پانی کا استعمال کیا کرے۔میرے نزدیک تو استغفار سے بڑھ کر کوئی تعویذ و حرز اور کوئی احتیاط و دوا نہیں۔میں تو اپنے دوستوں کو کہتا ہوں کہ خدا سے صلح و موافقت پیدا کرو اور دعاؤں میں مصروف رہو۔ایک حدیث کا مطلب فرمایا۔میں تو بڑی آرزو رکھتا ہوں اور دعائیں کرتا ہوں کہ میرے دوستوں کی عمریں لمبی ہوں تو کہ اس حدیث کی خبر پوری ہو جائے جس میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے زمانے میں چالیس برس تک موت دنیا سے اٹھ جائے گی۔فرمایا۔اس کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ تمام جانداروں سے اس عرصہ میں موت کا پیالہ ٹل جائے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں جو نَافِعُ النَّاس اور کام کے آدمی ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت بخشے گا۔۶۵؎