ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 277

مبتلا رہنے والوں اور رات دن مُردارِ دنیا ہی کی طلب میں جان کھپانے والوں کی کچھ بھی پروا نہ کروں گا۔رات کس درد سے حضرت امامؑ فرماتے ہیں۔آہ! اب تو خدا کے سوا کوئی بھی ہمارا نہیں۔اپنے پرائے سب ہی اس پر تُلے ہوئے ہیں کہ ہمیں ذلیل کر دیں۔رات دن ہماری نسبت مصائب اور گردشوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔اب اگر خدا تعالیٰ ہماری مدد نہ کرے تو ہمارا ٹھکانہ کہاں۔۶۳؎ ۲۵ ؍جون ۱۸۹۹ء صاحبزادہ مرزا مبارک احمد کا عقیقہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب کے عقیقہ کے لیے ۲۵ جون اتوار کا دن مقرر تھا۔حضرت اقدسؑ نے اس کام کا اہتمام منشی نبی بخش صاحب کے سپرد کیا تھا، مگر اس دن چونکہ بارش تھی اور ہوا خوب سرد چل رہی تھی اور بادل کی وجہ سے تاریکی بھی تھی یہ سب سامان ہم لوگوں کے لئے افسانہ خواب ہو گیا حضرت بھی سوگئے اور مہتمم صاحب بھی اپنے بسیرے میں جا لیٹے۔دن خوب چڑھ گیا حضرت اٹھے اور دریافت کیا کہ عقیقہ کا کوئی سامان نظر نہیں آتا۔گاؤں کے لوگوں کو دعوت کی گئی تھی اور باہر سے بھی کچھ احباب تشریف لائے تھے۔حضرتؑ کو فکر ہوئی کہ مہمانوں کو ناحق تکلیف ہوئی۔ادھر ہمارے دوست نبی بخش صاحب بڑے مضطرب اور نادم تھے کہ حضور پاک میں کیا عذر کروں۔منشی صاحب حاضر ہوئے اور معذرت کا دامن پھیلایا۔خیر کریم انسان اور رحیم ہادی اس کی ذات میں درشتی اور سخت نکتہ چینی تو ہے ہی نہیں۔فرمایا اچھا فُعِلَ مَا قُدِّرَ۔مگر ہمارے ذکی الحواس دوست منشی صاحب کو صبر کہاں۔یہ دل ہی دل میں کڑھیں اور پشیمان ہوں اور دوڑے جائیں۔اُن کے اس حال کو دیکھ کر حضرت اقدسؑ کو اپنی ایک رؤیا یاد آگئی جو چودہ سال ہوئے دیکھی تھی۔جس کا مضمون یہ ہے کہ ’’ایک چوتھا بیٹا ہوگا اور اس کا عقیقہ سوموار کو ہوگا۔‘‘ خدا تعالیٰ کی بات کے پورا ہونے اور اللہ تعالیٰ کے اس عجیب تصّرف سے حضرت اقدسؑ کو جو خوشی ہوئی