ملفوظات (جلد 1) — Page 234
نے بھی خدا کے حضور جانا ہے۔اب خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ معمولی اموات بھی اثر انداز نہیں ہوتی ہیں۔امرتسر، لاہور میں ساٹھ ستر روزانہ اموات کی تعداد ہوتی ہوگی۔کلکتہ اور بمبئی میں اس سے زیادہ مَرتے ہیں۔گو نفس الامر میں یہ نظارہ خوفناک ہے مگر کون دیکھتا ہے۔کوتاہ اندیش انسان کہہ اٹھتا ہے کہ یہ اموات آبادی کے لحاظ سے ہیں اور پروا نہیں کرتا۔دوسروں کی موت سے خود کچھ نفع نہیں اٹھا سکتا اس لئے خدا تعالیٰ نے دوسرا نسخہ اختیار کیا ہے اور طاعون کے ذریعہ لوگوں کو متنبہ کرنا چاہا ہے لیکن میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اب جو ہونا ہے سو ہونا ہے ایسا نہ ہو کہ یہ سمجھ کر تم خدا تعالیٰ کو بھی ناراض کرو اور گورنمنٹ کو بھی خطاکار ٹھہراؤ۔گورنمنٹ کو بدنام کرنے سے کیا حاصل؟ طاعون تمہاری اپنی شامت اعمال سے آئی اور گورنمنٹ پر تمہاری بدولت آفت آئی۔طاعون کے ایام میں گورنمنٹ کے اقدامات درست تھے گورنمنٹ کو اگر تمہارے ساتھ سچی ہمدردی نہیں تو تم خود ہی بتلاؤ کہ اس قدر روپیہ وہ کیوں خرچ کرتی ہے۔شفاخانے اور ڈاکٹر کیوں مقرر کئے جاتے ہیں۔ہزاروں پولیس کے آدمی انتظام کے لئے کیوں مقرر کئے۔کیا اسے کچھ شوق ہے کہ اس قدر خرچ اٹھائے؟ نہیں۔بلکہ ملک کی یہ حالت دیکھ کر وہ اندر ہی اندر مہربان ماں کی طرح بے چین ہو رہی ہے۔گورنمنٹ بھی رعایا ہی سے ہے۔لوگوں کو شاید خبر نہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ قیامت میں لوگ طاعون سے مارے جاویں گے۔مُنَجموں کی باتیں گو قابل ذکر نہیں مگر ہند اور یورپ کے مُنَجم کہتے ہیں کہ نومبر ۱۸۹۹ء میں ستارے جمع ہوں گے اور خوفناک وقت آئے گا۔ہم کو اس کی تو پروا نہ تھی مگر ہم کو تو یہ غم ہے کہ ہمارے الہام میں بھی آئندہ دو جاڑوں کا سخت اندیشہ ہے بشرطیکہ لوگ راہ راست اختیار نہ کریں اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کریں۔بدکاریاں، زناکاریاں، چوریاں اور ہر ایک قسم کے مکر و فریب اور بداعمال چھوڑ کر ہر طرح کی بداعمالیوں سے اجتناب نہ کریں تو سخت خطرہ اور اندیشہ ہے۔ایک سہم ناک اور ترسناک نظارہ ہمارے سامنے ہے۔اب بتلاؤ کہ ہم گورنمنٹ کو