ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 235

کیوں قصور وار ٹھہرائیں؟ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کو مناسب نہیں ہے کہ وہ جاہلوں کی روش اختیار کریں اور احمقوں اور کوتاہ اندیشوں کی چال چلیں۔میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ نے جس قدر ہدایات جاری کی ہیں وہ صحت کے لئے بہت مفید ہیں۔ہماری تاریخ کی کتابوں میں مثل طبری وغیرہ کی جو ہزار سال سے پہلے کی تصنیف ہے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جب لشکر ملک شام میں تھا وبا پڑی۔اس وقت لشکر کو پہاڑ پر بھیجنا پڑا۔تو یہ گورنمنٹ ہی کا مخترعہ نسخہ نہیں بلکہ طریق اہل اسلام بھی یونہی ثابت ہوتا ہے۔جیسے انہوں نے نشیب کو چھوڑ کر پہاڑ کی بلندی کو اختیار کیا اسی طرح اب بھی مرطوب اور نشیبی مکانات کو چھوڑ کر کھلے میدانوں میں مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔بو علی سینا نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ اُن گھروں کی صفائی کی جاوے کیونکہ جب تک سبب موجود ہے نتیجہ زائل نہیں ہوسکتا۔طبیب کیا کر سکتا ہے ماشہ دو ماشہ دوا دے گا مگر وہ عفونت جو سانس کے ذریعہ اندر چلی جاتی ہے اس کو وہ دوا کیا کرے گی؟ اس گھر میں بیٹھ کر طاعون کا کیا علاج ہو سکتا ہے؟ لوگوں نے طاعون کے ہاتھ دیکھے نہیں۔جہاں کوئی مَرتا ہے وہاں ناک نہیں دیا جاتا۔گورنمنٹ کی نسبت بدظنی ناپاک خیالات ہیں۔گورنمنٹ نے جو سوچا ہے وہ صحیح ہے۔ہماری جماعت کو لازم ہے کہ گورنمنٹ کی مدد کریں اور ہندو ہوں یا مسلمان اپنے ہمسائیوں دوستوں کو سمجھاویں اور اس دھوکا اور غلط فہمیوں کو دور کریں کہ گورنمنٹ نے مارنے کی تجویز کی ہے۔کوئی ان نادانوں سے پوچھے کہ لکھوکہا روپیہ گورنمنٹ مارنے کے واسطے صرف کر رہی ہے اور اس قدر تکالیف اٹھانے کا اسے شوق ہے۔طاعون کیا ہوتی ہے اصل بات یہ ہے کہ طاعون بہت مہلک مرض ہے۔اوّل سمجھ لینا چاہیے کہ طاعون کیا ہوتی ہے۔وہ ایک شدید تپ آتا ہے۔غشی، متلی، درد سر، نسیان ہوتا ہے، لرزہ بہت ہوتا ہے، بے چینی اور سراسیمگی ہوتی ہے۔پھر چند روز کے بعد ایک پھوڑا نکل آتا ہے کبھی تو وہ چھوٹی پھنسی ہوتی ہے اور کبھی زیادہ اور کبھی یہ بُنِ ران میں نکلتا ہے۔کبھی پسِ گوش اور