ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 233

کرتے۔وبا قادیان سے ۳۵ کوس کے فاصلے پر ہے۔گو شدتِ حرارت کی وجہ سے کم ہوتی جاتی ہے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ شدتِ حرارت میں کم ہو گئی تو آئندہ سال نہ آئے گی مجھے چند مرتبہ بذریعہ الہام اور رؤیا سے معلوم ہوا ہے کہ وبا ملک میں پھیلے گی اور میں اس کو پیشتر شائع کر چکا ہوں کہ سیاہ رنگ کے پودے لگائے جا رہے ہیں۔لگانے والوں سے پوچھا تو انہوں نے طاعون کے درخت بتلائے۔یہ بڑی خطرناک بات ہے۔وعیدی پیشگوئیاں توبہ اور استغفار سے ٹل سکتی ہیں ایسا ہی میں یہ بھی بتلا چکا ہوں کہ وعید کی پیشگوئیاں توبہ اور استغفار سے ٹل سکتی ہیں یہاں تک کہ دوزخ کا وعید بھی ٹل سکتا ہے۔لوگ اس طرف رجوع کریں اور توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ اس ملک اور خطے کو چاہے گا تو محفوظ رکھ لے گا۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔مگر فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّيْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ (الفرقان:۷۸) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم میری بندگی نہ کرو تو پروا کیا ہے۔لوگ کہتے ہیں گلی گلی میں حکیم ہیں، ڈاکٹر موجود ہیں، شفا خانے کھلے ہیں وہ فوراً علاج کرکے اچھے ہو جائیں گے؟ مگر ان کو معلوم نہیں کہ خود بمبئی اور کراچی میں بڑے بڑے ڈاکٹر کتنے مبتلا ہوکر چل بسے ہیں؟ جو اس خدمت پر مامور ہو کر گئے تھے خود ہی شکار ہو گئے۔یہ خدا تعالیٰ اپنے تصرفات کا مشاہدہ کراتا ہے کہ محض ڈاکٹروں یا علاج پر بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں۔خدا چاہتا ہے کہ دوسرے عالم پر بھی ایمان پیدا ہو۔اب لوگ زور لگا کر دکھاویں جس طرح انسان ایک بالشت بھر زمین کے لئے مرتا ہے، سازشیں کرتا اور مقدمات کی زیر باریاں اٹھاتا ہے کیا وہ خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر بھی ویسا ہی قلق اور کرب اپنے اندر پاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔نادان انسان جب شدید امراض میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا کو پکارتا ہے لیکن یونہی آزمائشی طور پر اسے مہلت ملتی ہے تو پھر ایک ایسا اصول قائم کرتا ہے اور ایسی چال چلتا ہے کہ گویا مَرنا ہی نہیں۔معمولی امراض سے مَرجانے پر بھی بہت تھوڑا اثر اب دلوں پر ہوتا ہے۔دو تین روز تک برائے نام قائم رہتا ہے پھر وہی ہنسی مخول اور مُزخرفات، قبرستان میں جاتے ہیں اور مُردے گاڑتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کہ آخر ایک دن مَر کر ہم