ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 232

رعایت اسباب منع نہیں ہے رعایت اسباب ہماری شریعت میں منع نہیں ہے۔کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا ہم دوا کریں۔آپؐ نے فرمایا کہ ہاں دوا کرو۔کوئی مرض ایسا نہیں جس کی دوا نہ ہو۔ہاں یہ بالکل سچی بات ہے کہ کوئی بید یا ڈاکٹر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ فلاں دوا فائدہ کرے گی۔اگر ایسا ہوتا تو پھر کوئی کیوں مَرتا۔طبیبوں اور ڈاکٹروں کو چاہیے کہ متّقی بن جاویں۔دوا بھی کریں اور دعا بھی۔تنہائی میں دعا مانگیں۔جنہوں نے گھمنڈ کیا تھا خدا نے ان کو ہی ذلیل کیا ہے۔لکھا ہے کہ جالینوس کو اسہال کے بند کرنے کا بڑا دعویٰ تھا۔خدا کی شان ہے کہ وہ خود اسی مرض کا شکار ہوا۔اسی طرح بعض طبیب مدقوق ہوکر اور بعض مسلول ہو کر اس تختہءِ دنیا سے چل دیئے۔اللہ تعالیٰ پر ہی کامل بھروسہ کرنا چاہیے میری غرض اس سے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دعووں کی حقیقت کھول دی اور بے جا شیخی کا بھانڈا پھوڑ کر دکھایا۔جو دعویٰ کیا اسی دعوے میں پست ہوئے۔معلوم ہوا کہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ہمارے والد صاحب مرحوم بھی مشہور طبیب تھے اور پچاس برس کا تجربہ تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ حکمی نسخہ کوئی نہیں۔حقیقت یہی ہے۔تصرف اللہ کا خانہ خالی رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے والا سعادت مند ہے۔مصیبت میں شیخی میں نہ آوے۔غیر اللہ پر بھروسہ نہ کرے۔یک دفعہ ہی خفیف عوارض شدید ہونے لگتے ہیں۔کبھی قلب کا علاج کرتے کرتے دماغ پر آفت آجاتی ہے کبھی سردی کے پہلو پر علاج کرتے کرتے گرمی کا زور چڑھ جاتا ہے۔کون اس کو طے کر سکتا ہے۔خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ان حشرات الارض اور سمّیات کو کوئی کب گن سکتا ہے۔بیماریوں کو بھی نہیں گن سکتے۔لکھا ہے کہ آنکھ ہی کی تین ہزار بیماریاں ہیں۔بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ایسے طور پر غلبہ کرتی ہیں کہ ڈاکٹر نسخہ نہیں لکھ چکتا جو بیمار کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آنا چاہیے آج کل دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں کو خدا سے سخت غفلت اور استغنا ہے۔قبریں کھودی جا رہی ہیں۔فرشتے ہلاکت کے مواد تیار کر رہے ہیں اور لوگ کاٹے جاتے ہیں۔اس پر بھی نادان دھیان نہیں