ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 203

اس خوفناک زمانہ میں کہ اسلام پر حملوں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔امن اور آرام کے ساتھ خواب راحت میں سو رہے ہیں۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہفتہ وار اور ماہواری اخباروں اور رسالوں کے علاوہ ہر روز وہ کس قدر دو ورقہ اشتہار اور چھوٹے چھوٹے رسالے تقسیم کرتے ہیں جن کی تعداد پچاس پچاس ہزار اور بعض وقت لاکھوں تک ہوتی ہے اور کئی کئی مرتبہ ان کو شائع کرنے میں کروڑہا روپیہ پانی کی طرح بہادیا جاتا ہے مسیحیت اسلام کے خلاف کیوں ہے؟ یہ خوب یاد رکھو کہ پادریوں کے ذہن اور تصور میں ہندو کچھ چیز نہیں ہیں اور نہ دوسرے مذاہب وغیرہ کی ان کو چنداں پروا ہے چنانچہ کبھی نہیں سنا ہوگا کہ جس قدر کتابیں اسلام کی تردید میں یہ لوگ شائع کرتے ہیں اس کے مقابلہ میں آدھی بھی ہندو مذہب کے خلاف لکھتے ہوں۔یہ لوگ دوسرے مذاہب سے چنداں غرض نہیں رکھتے اس لیے کہ ان میں بجائے خود کوئی حقانیّت اور صداقت کی روح نہیں ہے وہ عیسویّت کی طرح خود مُردہ مذاہب ہیں لیکن اسلام جو ایک زندہ مذہب ہے جو حیّ و قیوم خدا کی طرف سے ہے اس کے خلاف یہ سر توڑ کوشش کرکے اس کو بھی مُردہ ملّت بنانا چاہتے ہیں۔چنانچہ میں نے ان کے اعتراضوں کو ایک وقت شمار کیا تھا ان کی تعداد تین ہزار تک پہنچ چکی ہے اور اب تو اس میں اور بھی اضافہ ہوا ہوگا۔یاد رکھو مفتری انسان وسوسہ میں ڈالتا ہے۔چونکہ اس میں صدق، عفت، راستبازی نہیں ہوتی اس لیے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔امرتسری افغانوں کا پکّا یقین ہے کہ یہ لوگ تارک الصلوٰۃ ہیں اور شراب پیتے ہیں۔جب دوسروں کے سامنے وہ اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ زادہ ہیں، کیا جھوٹ بولیں گے؟ اس سے وہ وسوسہ میں پڑتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ ہاں سچ یہی ہے۔اسی طرح یہ لوگ ریشہ دوانیاں کرتے ہیں۔غرض ایک تو پادری ہیں جو کھلے طور پر اسلام کے خلاف کتابیں لکھتے اور شائع کرتے ہیں۔دوسرے انگریزی طرز تعلیم اور کتابوں میں بھی پوشیدہ طور پر زہریلا مادہ رکھا ہوا ہے۔فلسفی اپنے طرز پر اور مؤرخ اپنے رنگ میں واقعات کو بری صورت میں پیش کرکے اسلام پر حملہ کرتے ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ اس وقت دو ہی قسم کے حملے ہوتے ہیں ایک