ملفوظات (جلد 1) — Page 202
کرلیا۔خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جانا ہی ایک فعل تھا جو سارا قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے اور رضی اللہ عنہم کا تمغہ ان کو مل گیا۔پس جب تک تم اپنے اندر وہ امتیاز، وہ جوش اور حمیت اسلام کے لیے محسوس نہ کرلو ہرگز اپنے آپ کو کامل نہ سمجھ لو۔ہماری جماعت یاد رکھے کہ ہم ہندوستان کو بلحاظ حکومت ہرگز ہرگز دَارُالْـحَرْب قرار نہیں دیتے بلکہ اس امن اور برکات کی وجہ سے جو اس حکومت میں ہم کو ملی ہیں اور اس آزادی کو جو اپنے مذہب کے ارکان کی بجاآوری اور اس کی اشاعت کے لیے گورنمنٹ نے ہم کو دے رکھی ہے۔ہمارا دل عطر کے شیشہ کی طرح وفاداری اور شکر گزاری کے جوش سے بھرا ہوا ہے لیکن پادریوں کی وجہ سے ہم اس کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔پادریوں نے چھ (۶) کروڑ کے قریب کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی ہیں۔میرے نزدیک وہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جو ان حملوں کو دیکھیں اور سنیں اور اپنے ہی ہم وغم میں مبتلا رہیں۔اس وقت جو کچھ کسی سے ممکن ہو وہ اسلام کی تائید کے لیے کرے اور اس قلمی جنگ میں اپنی وفاداری دکھائے جبکہ خود عادل گورنمنٹ نے ہم کو منع نہیں کیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کی تائید اور غیرقوموں کے اعتراضوں کی تردید میں کتابیں شائع کریں بلکہ پریس، ڈاک خانے اور اشاعت کے دوسرے ذریعوں سے مدد دی ہے تو ایسے وقت میں خاموش رہنا سخت گناہ ہے۔ہاں ضرورت ہے اس امر کی کہ جو بات پیش کی جاوے وہ معقول ہو۔اس کی غرض دل آزاری نہ ہو جو اسلام کے لیے سینہ بریاں اور چشم گریاں نہیں رکھتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ ایسے انسان کا ذمہ دار نہیں ہوتا۔اس کو سوچنا چاہیے کہ جس قدر خیالات اپنی کامیابی کے آتے ہیں اور جتنی تدابیر اپنی دنیوی اغراض کے لیے کرتا ہے اسی سوزش اور جلن اور درد دل کے ساتھ کبھی یہ خیال بھی آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ذات پر حملے ہو رہے ہیں میں ان کے دفاع کی بھی سعی کروں؟ اور اگر کچھ اور نہیں ہوسکتا تو کم از کم پُرسوز دل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور دعا کروں؟ اگر اس قسم کی جلن اور درد دل میں ہو تو ممکن نہیں کہ سچّی محبت کے آثار ظاہر نہ ہوں۔اگر ٹوٹی ہانڈی بھی خریدی جائے تواس پر بھی رنج ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک سوئی کے گم ہو جانے پر بھی افسوس ہوتا ہے۔پھر یہ کیسا ایمان اور اسلام ہے کہ