ملفوظات (جلد 1) — Page 204
پادریوں کے اور دوسرے فلسفیوں کے۔پس اس وقت اپنے اسلام کو ٹٹولنا چاہیے۔قرآن کریم میں مخلوق کی قسم کھانے کی فلاسفی میں پھر اصل کلام کی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی قسموں پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ بھی اسی قسم کا ہے۔بڑے غور اور فکر کے بعد یہ راز ہم پر کھلا ہے کہ قرآن شریف کے جس جس مقام پر کوتہ اندیشوں نے اعتراض کئے ہیں اسی مقام پر اعلیٰ درجہ کی صداقتوں اور معارف کا ایک ذخیرہ موجود ہے جس پر ان کو اس وجہ سے اطلاع نہیں ملی کہ وہ حق کے ساتھ عداوت رکھتے ہیں اور قرآن شریف کو محض اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس پر نکتہ چینی اور اعتراض کریں۔یاد رکھو قرآن شریف کے دو حصّے ہیں بلکہ تین۔ایک تو وہ حصہ ہے جس کو ادنیٰ درجہ کے لوگ بھی جو اُمّی ہوتے ہیں سمجھ سکتے ہیں اور دوسرا وہ حصہ ہے جو اوسط درجہ کے لوگوں پر کھلتا ہے۔اگرچہ وہ پورے طور پر اُمّی نہیں ہوتے لیکن بہت بڑی استعداد علو م کی بھی نہیں رکھتے اور تیسرا حصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو اعلیٰ درجہ کے علوم سے بہرہ ور ہیں اور فلاسفر کہلاتے ہیں۔یہ قرآن شریف ہی کا خاصّہ ہے کہ وہ تینوں قسم کے آدمیوں کو یکساں تعلیم دیتا ہے۔ایک ہی بات ہے جو امّی اور اوسط درجہ کے آدمی اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفر کو تعلیم دے جاتی ہے۔یہ قرآن شریف کا ہی فخر ہے کہ ہر طبقہ اپنی استعداد اور درجہ کے موافق فیض پاتا ہے۔الغرض یہ جو قرآن شریف کی قَسم پر اعتراض کیا جاتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قَسم ایک ایسی شے ہے جس کو ایک شاہد کے مفقود ہونے کی بجائے دوسرا شاہد قرار دیا جاتا ہے۔قانوناً، شرعاً، عرفاً یہ عام مسلّم بات ہے کہ جب گواہ مفقود ہو اور موجود نہ ہوتو صرف قَسم پر اکتفا کی جاتی ہے اور وہ قَسم گواہ ہی کے قائم مقام ہوتی ہے۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کی سنت قرآن کریم میں اس طرح پر جاری ہے کہ نظریات کو ثابت کرنے کے واسطے بدیہات کو بطور شاہد پیش کرتا ہے تاکہ نظری امور ثابت ہوں۔۲۷؎ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ طرز اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کہ نظری امور کے اثبات