ملفوظات (جلد 1) — Page 201
خلاف ایک خطرناک جنگ شروع کی ہوئی ہے۔اس میدان جنگ میں وہ نیزہ ہائے قلم لے کر نکلے ہیں نہ سنان و تفنگ لے کر۔اس لیے اس میدان میں ہم کو جو ہتھیار لے کر نکلنا چاہیے وہ قلم اور صرف قلم ہے۔ہمارے نزدیک ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس جنگ میں شریک ہو جاوے۔اللہ اور اس کے برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وہ دل آزار حملے کئے جاتے ہیں کہ ہمارا تو جگر پھٹ جاتا اور دل کانپ اٹھتا ہے۔کیا اُمہات المومنین یا دربار مصطفائی کے اسرار جیسی گندی کتاب دیکھ کر ہم آرام کر سکتے ہیں جس کا نام ہی اس طرز پر رکھا گیا ہے جیسے ناپاک ناولوں کے نام ہوتے ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ دربار لنڈن کے اسرار جیسی کتابیں تو گورنمنٹ کے اپنے علم میں بھی اس قابل ہوں کہ اس کی اشاعت بند کی جائے مگر آٹھ کروڑ مسلمانوں کی دلآزاری کرنے والی کتاب کو نہ روکا جائے۔ہم خود گورنمنٹ سے اس قسم کی درخواست کرنا ہرگز ہرگز نہیں چاہتے بلکہ اس کو بہت ہی نامناسب خیال کرتے ہیں جیسا کہ ہم نے اپنے میموریل کے ذریعہ سے واضح کر دیا تھا لیکن یہ بات ہم نے محض اس بنا پر کہی ہے کہ بجائے خود گورنمنٹ کا اپنا فرض ہے کہ وہ ایسی تحریروں کا خیال رکھے۔بہر حال گورنمنٹ نے عام آزادی دے رکھی ہے کہ اگر عیسائی ایک کتاب اسلام پر اعتراض کرنے کی غرض سے لکھتے ہیں تو مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ اس کا جواب لکھنے اور عیسائی مذہب کی تردید میں کتابیں لکھنے کا اختیار ہے۔اسلامی غیرت کا تقاضا میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیہا ایک مکھی کے برابر نظر نہیں آتا۔میں پوچھتا ہوں کہ جس کو وقت پر جوش نہیں آتا کیا وہ مسلمان ٹھیر سکتا ہے۔کسی کے باپ کو برا بھلا کہا جائے تو وہ مَرنے مارنے کو طیار ہو جاتا ہے لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں تو اس کی رگ حمیت میں جنبش بھی نہ آوے اور پروا بھی نہ کرے۔یہ کیا ایمان ہے؟ پھر کس منہ سے مَر کر خدا کے پاس جائیں گے۔اگر مسلمانوں کا نمونہ دیکھنا چاہو تو صحابہ کرام کی جماعت کو دیکھو جنھوں نے اپنے جان و مال کے کسی قسم کے نقصان کی پروا نہیں کی۔اللہ اور اس کے رسولؐ کی رضا کو مقدّم