ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 13

کوئی ایسا فعل اس سے سرزد ہوجاتا ہے جس سے مقدمات بن جایا کرتے ہیں۔فوجداریاں ہو جاتی ہیں مگر اگر کسی کا یہ ارادہ ہو کہ بلا استصواب کتاب اللہ اس کا حرکت و سکون نہ ہوگا اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا تو یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی۔جیسے فرمایا وَلَا رَطْبٍ وَّ لَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ (الانعام:۶۰) سو اگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا لیکن جو اپنے جذبات کا تابع ہے وہ ضرور نقصان ہی میں پڑے گا۔بسا اوقات وہ اس جگہ مواخذہ میں پڑے گا۔سو اس کے مقابل اللہ نے فرمایا کہ ولی جو میرے ساتھ بولتے چلتے کام کرتے ہیں وہ گویا اس میں محو ہیں۔سو جس قدر کوئی محویت میں کم ہے وہ اتنا ہی خدا سے دور ہے لیکن اگر اس کی محویت ویسی ہی ہے جیسے خدا نے فرمایا تو اس کے ایمان کا اندازہ نہیں۔ان کی حمایت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّافَقَدْاٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ (بخاری) جو شخص میرے ولی کا مقابلہ کرتا ہے وہ میرے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔اب دیکھ لو کہ متّقی کی شان کس قدر بلند ہے اور اس کا پایہ کس قدر عالی ہے۔جس کا قرب خدا کی جناب میں ایسا ہے کہ اس کا ستایا جانا خدا کا ستایا جانا ہو تو خدا اس کا کس قدر معاون و مددگار ہوگا۔متّقی کے پاس جو آجاتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے لوگ بہت سے مصائب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن متّقی بچائے جاتے ہیں بلکہ ان کے پاس جو آجاتا ہے وہ بھی بچایا جاتا ہے۔مصائب کی کوئی حد نہیں۔انسان کا اپنا اندر اس قدر مصائب سے بھرا ہوا ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں۔امراض کو ہی دیکھ لیا جاوے کہ ہزارہا مصائب کے پیدا کرنے کو کافی ہیں لیکن جو تقویٰ کے قلعہ میں ہوتا ہے وہ ان سے محفوظ ہے اور جو اس سے باہر ہے وہ ایک ایسے جنگل میں ہے جو درندہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔متّقی کو اسی دنیا میں بشارتیں ملتی ہیں متّقی کے لئے ایک اور بھی وعدہ ہے۔لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ (یونس:۶۵) یعنی جو متّقی ہوتے ہیں ان کو اسی دنیا میں بشارتیں سچے خوابوں کے ذریعہ ملتی ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر وہ