ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 12

نعمت ہے کہ تھوڑی سی تکلیف سے خدا کا مقرب کہلائے۔آج کل زمانہ کس قدر پست ہمت ہے۔اگر کوئی حاکم یا افسر کسی کو یہ کہہ دے کہ تو میرا دوست ہے یا اس کو کرسی دے اور اس کی عزت کرے تو وہ شیخی کرتا ہے۔فخر کرتا پھرتا ہے لیکن اس انسان کا کس قدر افضل رتبہ ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ اپنا ولی یا دوست کہہ کر پکارے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اکرم ؐ کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا ہے جیسے کہ ایک حدیث بخاری میں وارد ہے لَایَزَالُ یَتَقَرَّبُ عَبْدِیْ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اَحْبَبْتُہٗ فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا وَ رِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَا وَاِنْ سَاَلَنِیْ لَاُعْطِیَنَّہٗ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ۔(بخاری، کتاب الرقاق ،باب التواضع) یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا ولی ایسا قرب میرے ساتھ بذریعہ نوافل کے پیدا کر لیتا ہے۔الـخ فرائض و نوافل انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے اس کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک فرائض دوسرے نوافل۔فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو جیسے قرضہ کا اتارنا۔یا نیکی کے مقابل نیکی۔ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اَور احسان کرنا یہ نوافل ہیں۔یہ بطور مکملات اور متممات فرائض کے ہیں۔اس حدیث میں بیان ہے کہ اولیاء اللہ کے دینی فرائض کی تکمیل نوافل سے ہو رہتی ہے۔مثلاً زکوٰۃ کے علاوہ وہ اور صدقات دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسوں کا ولی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ، پاؤں وغیرہ حتی کہ اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ہر ایک فعل خدا کی منشا کے مطابق ہو بات یہ ہے کہ جب انسان جذبات نفس سے پاک ہوتا اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے اس کا کوئی فعل ناجائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا کی منشا کے مطابق ہوتا ہے۔جہاں لوگ ابتلا میں پڑتے ہیں وہاں یہ امر ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ فعل خدا کے ارادہ سے مطابق نہیں ہوتا۔خدا کی رضا اس کے برخلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص اپنے جـذبات کے نیچے چلتا ہے مثلاً غصہ میں آکر