ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 14

صاحبِ مکاشفات و الہامات ہوجاتے ہیں۔مکالمۃ اللّٰہ کا شرف حاصل کرتے ہیں۔وہ بشریت کے لباس میں ہی ملائکہ کو دیکھ لیتے ہیں۔جیسے کہ فرمایا اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ۔۔۔الخ (حٰمٓ السَّجدۃ :۳۱) یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت دکھلاتے ہیں یعنی ابتلا کے وقت ایسا شخص دکھلا دیتا ہے کہ جو میں نے منہ سے وعدہ کیا تھا وہ عملی طور سے پورا کرتا ہوں۔ابتلا ضروری ہے کیونکہ ابتلا ضروری ہے۔جیسے یہ آیت اشارہ کرتی ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت:۳) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور استقامت کی ان پر فرشتے اترتے ہیں۔مفسروں کی غلطی ہے کہ فرشتوں کا اترنا نزع میں ہے۔یہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دل کو صاف کرتے ہیں اور نجاست اور گندگی سے جو اللہ سے دور رکھتی ہے اپنے نفس کو دور رکھتے ہیں ان میں سلسلہ الہام کے لئے ایک مناسبت پیدا ہوجاتی ہے۔سلسلہ الہام شروع ہو جاتا ہے۔پھر متّقی کی شان میں ایک اور جگہ فرمایا اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (یونس:۶۳) یعنی جو اللہ کے ولی ہیں ان کو کوئی غم نہیں۔جس کا خدا متکفّل ہو اس کو کوئی تکلیف نہیں۔کوئی مقابلہ کرنے والا ضرر نہیں دے سکتا اگر خدا ولی ہو جاوے۔پھر فرمایا اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (حٰمٓ السّجدۃ :۳۱) یعنی تم اس جنت کے لئے خوش ہو جس کا تم کو وعدہ ہے۔قرآن کی تعلیم سے پایا جاتا ہے کہ انسان کے لئے دو جنت ہیں جو شخص خدا سے پیار کرتا ہے کیا وہ ایک جلنے والی زندگی میں رہ سکتا ہے؟ جب اس جگہ ایک حاکم کا دوست دنیوی تعلقات میں ایک قسم کی بہشتی زندگی میں ہوتا ہے تو کیوں نہ ان کے لئے دروازہ جنت کا کھلے جو اللہ کے دوست ہیں اگرچہ دنیا پُر از تکلیف و مصائب ہے لیکن کسی کو کیا خبر وہ کیسی لذت اٹھاتے ہیں؟ اگر ان کو رنج ہو تو آدھ گھنٹہ تکلیف اٹھانا بھی مشکل ہے حالانکہ وہ تو تمام عمر تکلیف میں رہتے ہیں۔ایک زمانہ کی سلطنت ان کو دے کران کو اپنے کام سے روکا جاوے تو وہ کب کسی کی سنتے ہیں؟ اسی طرح خواہ مصیبت کے