ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 100

پھر اس کے لئے یہ کہنا سزا وار ہوتا ہے من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تا کس نہ گوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری # بایں ہمہ تصرفات الٰہیہ کا قائل ان کو بھی ہونا پڑتا ہے خواہ وجودی ہوں یا شہودی ہوں۔ان کے بعض بزرگ اور اہل کمال بایزید بسطامی ؒسے لے کر شبلی ؒ، ذوالنون ؒ اور محی الدین ابن عربی ؒ تک کے کلمات علی العموم ایسے ہیں کہ بعض ظاہر طور پر اور بعض مخفی طور پر اسی طرف گئے ہیں۔میں یہ بات کھول کر کہنی چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ حق نہیں کہ ہم ان کو استہزا کی نظر سے دیکھیں۔نہیں نہیں۔وہ اہل عقل تھے۔بات یوں ہے کہ معرفت کا یہ ایک باریک اور عمیق راز تھا۔اس کا رشتہ ہاتھ سے نکل گیا تھا۔یہی بات تھی اور کچھ نہیں۔خدائے تعالیٰ کے اعلیٰ تصرفات پر انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ ہالک الذات۔انہوں نے انسان کو ایسا دیکھا اور ان کے منہ سے ایسی باتیں نکلیں اور ذہن ادھر منتقل ہو گیا۔پس یہ امر بحضور دل یاد رکھو کہ باوصفیکہ انسان صفائی باطن سے ایسے درجہ پر پہنچتا ہے (جیسا کہ ہمارے نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم اس مرتبہ اعلیٰ پر پہنچے) کہ جہاں اسے اقتداری طاقت ملتی ہے لیکن خالق اور مخلوق میں ایک فرق ہے اور نمایاں فرق ہے اس کو کبھی دل سے دور کرنا نہ چاہیے۔انسان ہستی کے عوارض سے آزاد نہیں۔نہ یہاں نہ وہاں۔کھاتا پیتا ہے۔معاصی ہوتے ہیں کبائر بھی اور صغائر بھی۔اور اسی طرح پر اگلے جہان میں بھی بعض جہنم میں ہوں گے اور بعض جنت الخلد میں۔غرض یہ ہے کہ انسان کبھی بھی جامہ عبودیت سے باہر نہیں ہو سکتا تو پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ کون سا حجاب ہے کہ جب وہ اتار کر ربوبیت کا جامہ پہن لیتا ہے۔بڑے بڑے زاہدوں اور مجاہدوں کے شامل حال عبودیت ہی رہی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی عبودیت قرآن کریم کو پڑھ کر دیکھ لو۔اَور تو اَور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر دنیا میں کسی کامل انسان کا نمونہ موجود نہیں اور نہ آئندہ قیامت تک ہو سکتا ہے پھر دیکھو کہ اقتداری معجزات کے