ملفوظات (جلد 1) — Page 99
عبادت ہے۔اسی کا وجود بدیہی الثبوت ہے کیونکہ وہ حی بالذّات اور قائم بالذّات ہے اور بجز اس کے اور کسی چیز میں حی بالذّات اور قائم بالذّات ہونے کی صفت نہیں پائی جاتی۔کیا مطلب کہ اللہ تعالیٰ کے بدوں اور کسی میں یہ صفت نظر نہیں آتی کہ بغیر کسی علّتِ موجبہ کے آپ ہی موجود اور قائم ہو یا کہ اس عالم کی جو کمال حکمت اور ترتیب محکم و موزوں سے بنایا گیا ہے علّتِ موجبہ ہو سکے۔غرض اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ان مخلوقات عالم میں تغیر و تبدل کر سکتی ہو یا ہر ایک شے کی حیات کا موجب اور قیام کا باعث ہو۔صوفیا کے دو مکتبہ ہائے فکر وجودی و شہودی اس آیت پر نظر کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وجودی مذہب حق سے دور چلا گیا ہے اور اس نے صفات الٰہیہ کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ہے۔وہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اس نے عبودیت اور الوہیت کے ہی رشتہ پر ٹھوکر کھائی ہے۔اصل یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان میں سے جو لوگ اہل کشف ہوئے ہیں اور ان میں سے اہل مجاہدہ نے دریافت کرنا چاہا تو عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ میں امتیاز نہ کر سکے اور خلق الاشیاء کے قائل ہو گئے۔قرآن شریف قلب ہی پر وارد ہو کر زبان پر آتا ہے اور قلب کا کس قدر تعلق تھا کہ کلام الٰہی کا مورد ہو گیا۔اس باریک بحث سے وہ دھوکہ کھا سکتے تھے مگر بات یہ ہے کہ انسان جب غلط فہمی سے قدم اٹھاتا ہے تو پھر مشکلات کے بھنور میں پھسل جاتا ہے جیسا میں نے ابھی بیان کیا ہے۔خدائے تعالیٰ کے تصرفات انسان کے ساتھ ایسے عمیق در عمیق ہیں کہ کوئی طاقت ان کو بیان نہیں کر سکتی اور اگر ایسا ہوتا تو اس کی ربوبیت اور صفات کاملہ مندرجہ قرآن نہ پائی جاتیں۔ہمارا عدم ہی اس کی ہستی کا ثبوت ہے اور یہ ایک سچی بات ہے کہ جب انسان ہر طرح سے بے اختیار ہوتا ہے تو اس کا عدم ہی ہوتا ہے۔اس باریک بھید کو بعض لوگ نہ سمجھ کر خَلْقُ الْاَشْیَآءِ ھُوَ عَیْنٌ کہہ اٹھے۔وجودی اور شہودی میں سے اول الذکر تو وہی ہیں جو خَلْقُ الْاَشْیَآءِ ھُوَ عَیْنٌ کہتے اور مانتے ہیں اور ثانی الذکر وہ ہیں جو فناء نظری کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ محبت میں انسان اس قدر استغراق کر سکتا ہے کہ وہ فنافی اللہ ہو سکتا ہے اور