ملفوظات (جلد 1) — Page 101
ملنے پر بھی حضور کے شامل حال ہمیشہ عبودیت ہی رہی اور بار بار اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ (الکہف :۱۱۱) ہی فرماتے رہے۔یہاں تک کہ کلمۂ توحید میں اپنی عبودیت کے اقرار کا ایک جزو لازم قرار دیا جس کے بدوں مسلمان مسلمان ہی نہیں ہو سکتا۔سوچو ! اور پھر سوچو !! پس جس حال میں ہادی اکمل کی طرز زندگی ہم کو یہ سبق دے رہی ہے کہ اعلیٰ ترین مقام قرب پر بھی پہنچ کر عبودیت کے اعتراف کو ہاتھ سے نہیں دیا تو اور کسی کا تو ایسا خیال کرنا اور ایسی باتوں کا دل میں لانا ہی فضول اور عبث ہے۔تصرفات کی دو قسمیں ہاں! یہ سچی بات ہے جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے تصرفات بے حد و بے شمار ہیں۔ان کی تعداد اور گنتی ناممکن ہے۔انسان جس قدر زہد اور مجاہدہ کرتا ہے اسی قدر وہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا جاتا ہے اور اس نسبت سے ان تصرفات کا ایک رنگ اس پر آتا جاتا ہے اور تصرفات اللہ کی واقفیت کا دروازہ اس پر کھلتا ہے۔اس امر کا بیان کر دینا بھی مناسب موقع معلوم ہوتا ہے کہ تصرفات بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک باعتبار مخلوق کے اور دوسرے باعتبار قرب کے۔انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک تصرف تو اسی مخلوق کی نوعیت اور اعتبار سے ہوتا ہے جو يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ يَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ (الفرقان:۸) وغیرہ کے رنگ میں ہوتا ہے۔صحت بیماری وغیرہ اس کے ہی اختیار میں ہوتا ہے اور ایک جدید تصرف قرب کے مراتب میں ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے طور پر ان کے قریب ہوتا ہے کہ ان سے مخاطبات اور مکالمات شروع ہو جاتے ہیں اور ان کی دعاؤں کا جواب ملتا ہے مگر بعض لوگ نہیں سمجھ سکتے اور یہاں تک ہی نہیں بلکہ نرے مکالمہ اور مخاطبہ سے بڑھ کر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ الوہیت کی چادر ان پر پڑی ہوئی ہوتی ہے اور خدائے تعالیٰ اپنی ہستی کے طرح طرح کے نمونے ان کو دکھاتا ہے اور یہ ایک ٹھیک مثال اس قرب اور تعلق کی ہے کہ جیسے لوہے کو کسی آگ میں رکھ دیں تو وہ اثر پذیر ہو کر سرخ آگ کا ایک ٹکڑا ہی نظر آتا ہے۔اس وقت اس میں آگ کی سی روشنی بھی ہوتی ہے اور احراق جو ایک صفت آگ کی ہے وہ بھی اس میں آجاتی ہے۔مگر بایں ہمہ یہ ایک بیّن بات ہے کہ وہ لوہا آگ یا آگ کا ٹکڑا نہیں ہوتا۔