ملفوظات (جلد 10) — Page 314
اس کو عطا نہیں ہوئی وہ تو ایک نقش ہے جو مٹ نہیں سکتا۔جو شخص مَلک اور شیطان کا انکار کرتا ہے وہ تو گویا بد یہات اور امورِ محسوسہ مشہودہ کا انکاری ہے۔ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ لوگ نیکی بھی کرتے ہیں اور ارتکاب جرائم بھی دنیا میں ہوتا ہے اور دونوں قوتیں دنیا میں برابر اپنا کام کررہی ہیں اور ان کا تو کوئی فردبشر بھی انکا ر نہیں کر سکتا۔کون ہے جو ان دونوں کا احساس اور اثر اپنے اندر نہیں پاتا؟ یہاں کوئی فلسفہ اور منطق پیش نہیں جاتی جبکہ دونوں قوتیں موجو د ہیں اور اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا کام کر رہی ہیں۔باقی یہ اَمر اگر نیکی ہی نیکی کی جاوے تو بدی زور پکڑ کر دنیا کو تباہ کر دے گی۔اس کے متعلق ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس سے تعلق نہیں کہ ایسا ہوتو ایسا ہو اور ایسا ہو تو ایسا ہو۔ہم اتنا دیکھتے ہیں کہ طبیعتیں مستعد بنائی ہیں۔کیا اخلاقِ فاضلہ کے واسطے اور کیا رذیلہ کے واسطے؟ ہم اس سے آگے نہیں بڑھتے۔سوال۔عیسائیوں میں یہ ایک مسئلہ مشہور ہے کہ دنیا گمراہ ہو گئی تھی مگر خدا نے پھر شیطان سے اس کو خریدا کیا یہ صحیح ہے ؟ جواب۔فرمایا۔ہم ایسی لغو باتوں کے قائل نہیں۔یہ ایک لغو بات ہے۔عیسائیوں سے پوچھا جاوے۔سوال۔عیسائی عقائد سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمؑ ایک اعلیٰ حالت سے ادنیٰ حالت کی طرف آگئے تھے حالانکہ انسان ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتا ہے۔جواب۔فرمایاکہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں اور نہ ہی ہم اس کو مانتے ہیں۔سوال۔میں آئندہ زندگی کو مانتا ہوں کہ وہ ایک چولہ ہے۔انسان اس کے ذریعہ ایک حالت سے دوسرے حالت میں چلا جاتا ہے۔مجھے سپر چول ازم سے خاص دلچسپی ہے۔میں یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ آئندہ زندگی کس طرح سے ہوگی اور وہاں کیا کیا حالات ہوں گے؟ جواب۔فرمایا۔بیشک اس زندگی کا خاتمہ ہو کر ایک اور نئے رنگ کی زندگی شروع ہو گی مگر اس وقت ابھی وقت نہیں کہ اس کی تفصیل بیان کریں۔جنہوں نے اس زندگی میں اچھی تخمریزی کی ہو گی۔ان کے واسطے ایک پاک سلسلہ شروع ہو گا اور جنہوں نے بُری تخم ریزی کی ہو گی۔ان کے لئے مشکلات