ملفوظات (جلد 10) — Page 315
اور عذاب کا سلسلہ ہو گا۔اس نئی زندگی کا ایک قسم کا تعلق اس زندگی سے بھی رہتا ہے اوربالکل ٹوٹ نہیں جاتا۔مثال کے طورپر عالم خواب موجود ہے۔بیداری میں ایک زندگی ہوتی ہے مگر سوتے ہی ایک عظیم الشان انقلاب آجاتا ہے بعض تفاصیل معلوم تو ہیں مگر ان کا بیان اس وقت نہیں ہوسکتا کیونکہ اس اَمر کے واسطے ایک لمبا وقت چاہیے۔منٹوں میں یہ اَمر طے نہیں ہوسکتا۔سوال لیڈی صاحبہ۔آیا یہ ممکن ہے کہ جو لو گ اس دنیا سے گذر گئے ہیں اور مَر چکے ہیں ان سے باتیں ہوسکیں یا کوئی تعلق یا واسطہ ہوسکے اور ان کے صحیح حالات معلوم کرسکیں ؟ جواب۔یہ بات ممکن تو ہے کہ کشفی طورسے روحوں سے انسان مل سکتا ہے مگر اس اَمر کے حصول کے واسطے ریاضاتِ شاقہ اور مجاہدات سخت کی اشد ضرورت ہے۔ہم نے خود آزمایا ہے اورتجربہ کیا ہے اوربعض اوقات روحوں سے ملاقات کرکے باتیں کی ہیں۔انسان ان سے بعض مفید مطلب امور اور دوائیں وغیرہ بھی دریافت کرسکتا ہے ہم نے خود حضرت عیسٰیؑ کی روح اورآنحضرتؐاوربعض صحابہ ؓ کرام سے بھی ملاقات کی ہے اوراس معاملہ میں صاحبِ تجربہ ہیں لیکن انسان کے واسطے مشکل یہ ہے کہ جب تک اس راہ میں مشق اورقاعدہ کی پابندی سے مجاہدات نہیں کرتا یہ اَمر حاصل نہیں ہوسکتا اور چونکہ ہر ایک کویہ اَمر میسر بھی نہیں آسکتا۔اس واسطے اس کے نزدیک یہ ایک قصہ کہانی ہی ہوتی ہے اوراس میں حقیقت نہیں ہوتی۔انسانی قلب بڑے بڑے عجائبات کا مرکز ہے مگر جس طرح صاف اورعمدہ پانی حاصل کرنے کے واسطے سخت سے سخت محنت اٹھا کر زمین کھودی جاتی ہے مٹی نکالی جاتی ہے اورپھر صفائی کی جاتی ہے اسی طرح دل کے عجائبات قدرت سے اطلاع پانے کے واسطے بھی سخت محنت اورمجاہدات کی ضرورت ہے اصل بات یہی ہے کہ اصلیت اس اَمر کی ضرورمانی جاتی ہے جس کے ہم خود گواہ ہیں اور صاحب تجربہ۔سوال۔مجھے اس قسم کی ایک کمیٹی کی طرف سے بعض کاغذات آئے تھے اور میری خاص غرض آپ کے پاس حاضر ہونے کی یہی تھی کہ ان کے متعلق آپ سے دریافت کروں اور آپ کی ہدایات سنوں۔کیا