ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 313

نہ سکتا تو پھر نیکی نیکی ہی نہ رہ سکتی۔افراط اور تفریط دونوں کی موجودگی ہی نیکی پیدا کرتی ہے۔یکطرفہ حالات ہوتے اور دوسرے قویٰ انسان کو دئیے ہی نہ جاتے اور انسان ہمیشہ نیکی کے واسطے ہی مجبور ہوتا۔بدی کرنے کی طاقت ہی اسے نہ ملتی تو پھر فرمانبردار ی اور نیکی نام ہی کس چیز کا ہوتا۔انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک حدتک اختیار دیا ہے۔ادھر بھی پہلو بدل سکتا ہے۔نیکی کی بھی طاقت ہے اوربدی کا بھی اختیار۔اب جیسا کرے گا اس کا اجر پاوے گا۔دیکھو! اگر اخلاق بد نہ ہوتے تو اخلاقِ فاضلہ کن کانام ہو سکتا۔اخلاقِ رذیلہ ہوئے جب ہی اخلاقِ فاضلہ بھی ہوئے۔کوئی اخلاقِ بد انسان کے ذہن میں ہوتے ہیں جب ہی تو انسان ان کا نقشہ ذہن میں رکھ کر ان کی مذمت کرتا اور اخلاقِ فاضلہ کسی خاص کام کا نام رکھتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے۔اگر ذہن میں کوئی کسی اَمر بد کا نقشہ موجود نہیں تو پھر اخلاق حسنہ بھی کچھ نہیں۔ہمیشہ بدی سے ہی نیکی ممتاز کی جاتی ہے اگر ایک ہی پہلو پیدا کیا جاتا تو یقیناً کوئی اجر بھی نہ ہوتا اور کوئی خوشنو دی بھی نہ ہوتی۔(رنج سے راحت، دکھ سے سکھ، ظلمت سے نور، کڑوے سے میٹھا، زہر سے تریاق، بد سے نیک اور گناہ سے نیکی پیدا ہوتی ہے۔اگر یہ ضدیں دنیا میں پیدا نہ کی جاتیں تو پھر زندگی ہی بد مزہ ہو جاتی) اگر صرف ایک ہی پہلو ہوتا تو وہ تو فطرت میں داخل تھا۔اس پر اجر کیسا اور ثواب کیا؟ وہ ذریعہ رضامندی کیوں کر ہو سکتا؟ وہ تو ایک مجبوری تھی کہ فطرتاًانسان سے اس کے مطابق ہی اعمال سر زد ہوتے۔یاد رکھو کہ انسان ذو اختیار بنایا گیا ہے۔انسان کو اختیار ہے کہ نیکی کرے یا بدی، احسان کرے یا ظلم، مروت کرے یا بخل، ہمیشہ دونوں پہلو ئوں پر لحاظ رکھ کر ہی کسی خاص انسان کے متعلق رائے زنی ہو سکتی ہے کہ نیک ہے یا بد۔اعمال کا مفہوم ہی یہی ہے کہ دوسری طرف بھی قدرت رکھتا ہو جو انتقام لینے کی طاقت رکھتے ہوئے انتقام نہیں لیتا وہ نیکی کرتا ہے۔مگر جس کو انتقام کے واسطے مُکّا مارنے کا ہاتھ ہی نہیں دیا گیا وہ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ میں نے نیکی کی اور احسان کیا کہ مُکّا نہیں مارا۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا( الشّمس :۱۰،۱۱)اس آیت کریمہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نیکی اور خوبی کا مدارہی دونوں پہلوئوں پر ہے جس کو ایک ہی قوت دی گئی ہے اور دوسری قوت ہی