ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 303

موجود ہ زمانہ میں اصلاح کاکام اس کے بعد حضرت اقدسؑ نے پھر اس سلسلہ کلام کو شروع کرکے فرمایا کہ زمانہ موجودہ کے حالات کے لحاظ سے مسئلہ اصلاح کچھ بہت ہی مشکل اورپیچیدہ سانظر آتا ہے۔آجکل کچھ ہَوا ہی اس کے خلاف چل رہی ہے۔ہم جو اَمر پیش کر رہے ہیںوہ تو ایک داروئے تلخ ہے۔یہ لوگ اپنی میٹھی میٹھی عادات چھوڑ کر کڑوی دواجب ہی استعمال کرسکتے ہیں کہ اس کی حقیقت سے ان کو پوری واقفیت اورآگاہی ہوکہ واقع میں وہ مٹھائی ان کے حق میں مضر اوریہ داروئے تلخ آب حیات کا اثر رکھتی ہے اور جب ہی کچھ فائدہ ہوسکتا ہے۔خدا نے جو قید لگائی ہے اس میں سراسر رحمت اور کرم ہے۔بھلا ان بے قیدیوں کا انجام ہی کیا ہے ؟یہی ہوتا ہے کہ شرابخوری اورفسق وفجور میں یہ لو گ غرق نظر آتے ہیں اورپھر ان سے جو بد نتائج نکلتے ہیں وہ کیسے خطرناک ہیں؟ دنیا ان کا روز نظارہ کر رہی ہے۔لقوہ، فالج، آتشک، سوزاک اور بعض اوقات جذام تک نوبت پہنچتی ہے اوراس طرح زندگی خطرناک مصائب میں مبتلا ہوکر خوار ہوجاتی ہے چاہیے کہ اس بےقیدی اوراس قید کے نتائج کا مقابلہ کرکے تو دیکھیں مگر یہ نوجوان جن کو نئی تعلیم کے مصالح لگے ہوئے ہیں سمجھتے نہیں۔اس مصالح سے ہی ڈر آتا ہے مگر پھر بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔میں اس تجویز کا بھی مخالف نہیں جو اس گروہ کی سچی ہمدردی اوراصلاح کے واسطے کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے بلکہ زور سے اس کے موافق ہوں۔سَو میں سے ایک ہی سہی ورنہ ان کے ٹھٹھا ہنسی کرنے سے ہی ہمیں اپنی محنت کا ثواب مل رہے گا۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی ایسے مجمع میں جہاں سَو پچاس آدمی جمع ہوں کوئی بات کہی جاتی ہے توان میں اختلاف ضرور ہوجاتا ہے۔اگر بعض ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں توبعض کو اس صداقت کی سمجھ بھی آہی جاتی ہے اگر چہ یہ سچ ہے کہ صداقت کے حصہ میں تھوڑے ہی آتے ہیں مگروہ تھوڑے ہی جوانمرد ہوتے ہیں کیونکہ صداقت کا قبول کرنا بھی ایک جوانمردی ہے اورپھر حق اورصداقت میں ایک رعب اورطاقت ہوتی ہے۔اس طرح سے ان کی قوت کے ساتھ ایک اورقوت شامل ہوکر بہت بڑی