ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 302

اس کا بھی یہ مطلب ہوتاہے کہ اس کثرت سے استعمال نہ کی جاوے یا یہ کہ باہر لوگوں کے سامنے گلی بازاروں میں نہ پی جاوے۔گھر کی چاردیواری میں جو چاہیں کریں۔مگر اسلام نے ان سب امور کے ساتھ سچے تقویٰ اورحقیقی پاکیزگی کی سخت تاکید ی شرط اور خدا کی حدود میں رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ساری بندگیوں کا خلاصہ اتنی تقریر کر چکنے پر چند دوستوں نے بیعت کی اوران کے ساتھ ہی ایک بڑے ضعیف العمر بھی تھے۔انہوں نے عرض کی کہ حضور میرے واسطے دعاکی جاوے کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف کرے۔(ایڈیٹر) فرمایا۔سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس بات کا خیال رکھے کہ عمر کا اعتبار نہیں۔نہ معلوم کہ موت کس وقت انسان کو آن پکڑے گی اور پھر اس کے ساتھ توبہ استغفار کرتا رہے۔خدا سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہنا اور اس کی رضا کے حصول کی تڑپ دل میں پیدا کرنا اسی میںسب دین اوردنیا آجاتا ہے۔ساری بندگیوں کا خلاصہ یہی ہے کہ انسان کے گناہ معاف ہوں اور اس سے خدا خوش ہوجاوے۔حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ آپ کا نام کیا ہے ؟ اس نے عرض کی کہ مستقیم۔فرمایا۔اچھا! خدا آپ کو مستقیم کرے۔بابا مستقیم صاحب نے عرض کی کہ حضور میرا دل ہے کہ میںآپ کی کوئی خدمت کرنے کے قابل ہوسکوں۔فرمایا۔سب کچھ نیت میں آجاتا ہے۔آپ کو آپ کی نیت کا ثواب مل گیا۔آپ نے یہاں تک آنے کی جو تکلیف اٹھائی ہے اس کا بھی اجر دیا جاوے گا۔اچھا! خدا پر راضی رہو۔