ملفوظات (جلد 10) — Page 304
طاقت ہوجاتی ہے۔خبیث سے طیّب کی تمیز اورپھر ایک اورخدا کا فضل ہمارے حصہ میں یہ آیا ہے کہ ہماری طرف آنے والے حلیم، سلیم اورنیک آدمی ہی ہوتے ہیں ان لوگوں کے گندے اشتہاروں اوران کی خلاف تہذیب اور خارج از انسانیت تحریروں، تقریروں اور گالی گلوچ دیکھ کر تو ہمیں خوش ہی ہونا پڑتا ہے۔ہمیں فائدہ ہی کیا ہوتا اگر یہ گندے لوگ ہم میں آشامل ہوتے۔خدا نے ہمیں جو بتایا ہے اوروہ خدا کے کلام میں داخل ہے کہ میں خبیث سے طیّب کو الگ کرنا چاہتا ہوں۔اس تمیز اور تمحیص کے ذرائع بھی خود خدا نے ہی بنادئیے ہیں ورنہ ممکن تھا کہ لوگ موت۱ کے بھی قائل ہوجاتے اور اس طرح سے ان میں اورہم میں کوئی اختلاف نہ رہ جاتا۔مگر خداجو خبیث اورطیّب میں فرق کرنا چاہتا ہے اس نے اپنی حکمت سے ان میں اور ہم میں کچھ ایسے اختلاف ڈال دیئے کہ ان کو ہم سے بالکل الگ ہی کردیا۔یہ عجیب بات ہے کہ ان کے پاس کوئی قوی دلیل نہیں ہے۔مگر پھر بھی یہ غیظ وغضب میں بھر رہے ہیں۔اگر کہیں قرآن شریف میں حضرت مسیح کی زندگی کا لفظ صریح طورسے لکھا ہوتا یا احادیث صحیحہ سے حضرت مسیحؑ کی زندگی ثابت ہوتی جب توان کا حق بھی تھا کہ غیظ وغضب کرتے اورہمیں جو دل چاہتا کہتے۔مگر جب خود قرآن اورحدیث ہی ان لوگوں کو دھکے دے رہے ہیں توپھر ان کا حق نہیں ہے کہ اس قدر جھوٹا جوش دکھاویں۔اصل بات یہ ہے کہ اس پُر فتن زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا ہے کہ میل کچیل سے نکال کرایک علیحدہ فرقہ بنادے اوردنیا کو دکھا دے کہ اسلام اس کو کہتے ہیں۔حالات دوہی قسم کے ماتحت ہوتے ہیں۔عملی اوراعتقادی۔مگر اس زمانہ کے مسلمانوں نے ہردورنگ میں اسلام کو بدنام کیا ہے۔اسلام ہرگند سے پاک اور ہرمیدان میں غالب ہے مگر ہم نہیں سمجھتے کہ ان لوگوں نے جو ہتھیار اختیار کیے ہیں ان سے کبھی اسلام غالب ہوسکے۔۱ مراد عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہے۔(مرتّب )