ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 301

ایسے بے قید اورآزاد عقائد ہی ہیں جن کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ دنیا کا ۴ ۱ یا ۵ ۱ حصہ بدھ عقائد کا پابند ہے یا ان عقائد کو پسند کرتا ہے۔مذہب کا دائرہ جتنا تنگ ہوگا اتنا ہی اس میں داخل ہونے والے لوگ بھی کم ہوں گے اوراتنی ہی نسبتاً پاکیزگی اورطہارت اس میں موجودہوگی۔اسلامی پابندیاں اسلام نے شرائط پابندی ہر دو عورتوں اور مردوں کے واسطے لازم کیے ہیں۔پردہ کرنے کا حکم جیسا کہ عورتوں کو ہے مردوں کو بھی ویسا ہی تاکیدی حکم ہے غضِّ بصر کا،نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، حلال وحرام کا امتیاز، خدا کے احکام کے مقابلہ میں اپنی عادات رسم ورواج کو ترک کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی پابندیاں ہیں جن سے اسلام کا دروازہ نہایت ہی تنگ ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہر ایک شخص اس دروازے میں داخل نہیں ہوسکتا۔عیسائی باش وہرچہ خواہی کن۔اور(ان کا) مذہب بھی ایک بے قید مذہب ہے اورمسلمانوں میںبھی آجکل ان لوگوں کو دیکھادیکھی ایک ایسا فرقہ پیدا ہواہے کہ وہ اسلام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔اصل میں یہ سب امور اسی بے قیدی اورآزادی کے خواہشمند وں کو سوجھتے ہیں۔مگر یادرکھیں کہ بے قیدی اور پاکیزگی تو نور وظلمت کی طرح آپس میں دشمن ہیں۔لاہور میں بھی طبائع میں قبول حق کی استعداد تومعلوم ہوتی ہے مگر بے قیدی اور آزادی ان کے رستے میں ایک سخت روک ہے۔لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک قوم مسلمان ہوئی اور انہوں نے آپؐکی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمیں نماز معاف کردی جاوے۔مگر آپؐنے ان کو یہی فرمایا کہ دیکھو جس مذہب میں خدا کی عبادت نہیں وہ مذہب ہی کچھ نہیں۔جب دنیا کی حالت کے اس آزاد اوربے قید حصہ پر نظر ڈالی جاتی ہے تو دل پر ایک قسم کا زلزلہ اور لرزہ وارد ہوتا ہے اور خیال آتا ہے کہ حقیقت میں اصلاح کی راہ میں سے اسی پتھر کا اٹھنا مشکل ہے بجز اس کے کہ دنیا پر ایک عظیم الشان انقلاب آجاوے جو دلوں میں خدا کی ہیبت اورسطوت اور جبروت وجلال کا یقین پید اکردے۔آجکل اگر کوئی شراب کو چھوڑ بھی دیتا ہے اورکہتا ہے کہ شراب کا استعمال ناجائز ہے۔اصل میں