ملفوظات (جلد 10) — Page 268
دوں گا کہ میں بوجہ اس کے کہ وہ مظلوم ہیں ان کی نصرت کروں گا اور تم کو ان کے ہاتھ سے ہلاک کرائوں گا۔چنانچہ پھر اس حکم کے بعد ان ہی چند لوگوں کی جو ذلیل اورحقیر سمجھے گئے تھے اور جن کا نہ کوئی حامی بنتا تھا اورنہ مددگار اوروہ کفّار کے ہاتھ سے سخت درجہ تنگ اورمجبور ہوگئے تھے ان کی مشارق اورمغارب میں دھاک بندھ گئی اوراس طرح سے خدا نے ان کی نصرت کرکے دنیا پر ظاہر کردیا کہ واقعی وہ مظلوم تھے۔غرض ہر طرح سے ہر رنگ میں اورہر پہلو پر نظر ڈال کر دیکھ لو واقع میں اس وقت مسلمان مظلوم تھے یا کہ نہیں؟ اگر خدا ایسے خطرناک اور نازک وقت میں بھی ان چند کمزور مسلمانوں کو اپنی حفاظت جان کے واسطے تلوار اٹھانے اور دفاعی طور سے لڑائی کرنے کی اجازت نہ دیتا تو کیا ان کو دنیا کے تختہ سے نابود ہی کردیتا ؟توپھر اس حالت میں ان کا تلوار اٹھانا جبکہ ہر طرح سے ان کا حق تھا کہ وہ تلوار اٹھاتے کیا تو شرعاً اور کیا عرفاً۔مگر وہ بھی آج تک نشانہ اعتراض بنا ہوا ہے اور متعصب اورجاہل دشمن اب تک اس کو نہیں بھولتے تو کیا اب یہ لوگ خونی مہدی کا عقیدہ پیش کرکے ان کے ان اعتراضوں کو پھرتازہ کرتے اورمسلمانوں سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔دیکھو مہدی کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صاف فرما دیا ہے کہ یَضَعُ الْـحَرْبَ وہ جنگ کا خاتمہ کردے گا اور وہ جنگ ایک علمی جنگ ہوگا۔قلم تلوار کا کام کرے گااوراسرارِ روحانی، برکات سماوی اورنشاناتِ اقتدار ی سے دنیا کو فتح کیا جاوے گا اور دلائل قاطع اور براہینِ ساطع سے اسلام کا غلبہ ثابت کیاجاوے گا۔اور تازہ بتازہ غیبی پیشگوئیوں اور تائیداتِ خدائی سے سچے مذہب کو ممتاز کرکے دکھایا جاوے گا۔یہ کہہ دینا کہ معجزات سابقہ ہمارے پاس موجود ہیں کافی نہیں۔یاد رکھو کہ ہندوئوں کے پستکوں اورعیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں کے قصے کہانیوں سے بڑھ کر تمہارے پا س بھی کچھ نہیں۔اگر تم قصے پیش کرو گے تووہ تم سے بڑھ چڑھ کر قصے پیش کرسکتے ہیں۔اگر اسلام کی سچائی کا معیار بھی صرف قصے کہانیوں کی بنا پر رہ گیا ہے توپھر یادرکھو کہ یہ اَمر مشتبہ ہے۔انبیاء کے وجود اورنشانات کی ضرورت اسلام میں فرقان ہے۔خدا نے ہمیشہ سے اسلام میں ایک اَمرِ خار ق رکھا ہے اورتازہ بتازہ