ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 269 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 269

نشانات ہیں۔نشان کا نام سن کر آجکل کے فلسفہ پڑھنے والے کچھ کشیدہ خاطر ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خداکے وجود کا پتہ لگانے کے واسطے نشانات اورانبیاء کے وجود کی کیا ضرورت ہے ؟ مگر یادر کھو کہ اس نظام شمسی اوراس ترتیب عالم سے جو کہ ایک اَبلغ اورمحکم رنگ میں پائی جاتی ہیں اس سے نتیجہ نکالنا کہ خدا ہے یہ ایک ضعیف ایمان ہے اس سے خدا کے وجود کے متعلق پوری تسلّی نہیں ہو سکتی، امکان ثابت ہوتا ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یقیناً خدا ہے اگر اس میں یقینی اورقطعی دلائل ہوتے تو پھر لوگ دہر یہ کیوں ہوتے ؟بڑے بڑے محقّق کتابیں تالیف کرتے ہیں مگر ان کے دلائلِ ناطقہ اور براہینِ قاطعہ نہیں ہوتے۔کسی کا منہ بند نہیں کرسکتے اور نہ ان سے یقینی ایمان تک انسان پہنچ سکتا ہے۔اگر ایک شخص ان امور سے خدا کی ہستی کے دلائل بیان کرے گا تو ایک دہریہ اس کے خلاف دلائل بیان کردے گا۔در اصل بات یہ ہے کہ اس طرح اتنا ثابت ہوسکتا ہے کہ خداہونا چاہیے۔یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ’’ہے‘‘۔ہونا چاہیے اورہے میں بہت بڑا فرق ہے۔’’ہے‘‘ مشاہدہ کو چاہتا ہے۔مگر دوسرا حصہ جو وجودِ باری تعالیٰ کے واسطے انبیاء نے پیش کیا ہے کہ زبردست نشانات معجزات اورخدا کی زبردست طاقت کے ظہور سے اس کی ہستی ثابت کی جاوے۔یہ ایک ایسی راہ ہے کہ تما م سر اس دلیل کے آگے جھک پڑتے ہیں اصل میں بہت سے عرب دہر یہ تھے جیسا کہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے اِنْ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَ نَحْيَا (المؤمنون :۳۸) کیا عرب جیسے اجڈ اور بےباک، بے قید، بے دھڑک لوگ تلوار سے آپؐنے سیدھے کئے تھے اوران کی آپؐکی بعثت سے پہلی اورپچھلی زندگی کا عظیم الشان امتیاز اور فرق اس وجہ سے تھا کہ وہ آنحضرتؐکی تلوار کا مقابلہ نہ کرسکے تھے؟ یا کیا صرف سادہ اورنری اخلاقی تعلیم تھی جس سے ان کے دلوں میں ایسی پاک تبدیلی پیدا ہوگئی تھی؟ نہیں ہرگز نہیں۔یاد رکھو کہ تلوار انسان کے ظاہر کو فتح کر سکتی ہے مگر دل کبھی تلوار سے فتح نہیں ہوتے۔بلکہ وہ وہ انوار تھے جن میں خدا کا چہر ہ نظر آتا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسے ایسے خارق عادت نشانات دکھائے تھے کہ خود خدا