ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 267

لَاۤاِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کے قائل ہیں پھر ہمیں مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ کی کیا حاجت ہے؟ جب یہ صورت ہے اور توحید کے اورمذاہب بھی قائل ہیں تو پھر تم میں اور تمہارے غیروں میں مابہ الامتیاز ہی کیا ہوا؟ جہاد کی حقیقت اگر یہی جہاد وغیرہ کے عقائد ہی مابہ الامتیاز ہیں تو پھر یاد رکھو کہ یہ سخت غلطی ہے اوراس طرح تم اسلام کے حامی نہیں بلکہ دشمن ہو، اسلام کو بدنام کرتے ہو۔دیکھو! اگر ہمیں اس بات کا علم ہوتا کہ واقع میں قرآن شریف کا یہی منشا ہے تو پھر ہم اس ملک کے باہر چلے جاتے اور ایسی جگہ اپنا قیام گاہ بناتے جہاں سے ہمیں ان احکام کی ادائیگی میں ہر طرح کی سہولت اور آسانی ہوتی اورخوب دل کھول کر ان احکام کو بجا لاتے مگر میں سچ کہتا ہوں کہ قرآن کا یہ منشا نہیں جو بدقسمتی سے بعض نادان ملّانوں نے سمجھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس زمانہ میں بڑے بڑے مشکلات کا سامنا تھا۔آپؐکے بہت سے جان نثار اور عزیز دوست ظالم کفّار کے تیروتفنگ کا نشانہ بنے اور طرح طرح کے قابلِ شرم عذا ب ان لوگوں نے مسلمان مردوں اورمسلمان عورتوں کو پہنچائے حتی کہ آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کرلیا۔چنانچہ آپ کا تعاقب بھی کیا۔آپ کے قتل کرنے والے کے واسطے انعام مقرر کئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غار میں پناہ گزیں ہوئے۔تعاقب کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی گئی۔مگر یہ تو خدا کا تصرّف تھا کہ آپ کو ان کی نظروں سے باوجود سامنے ہونے کے بچالیا اور ان کی آنکھوں میں خاک ڈال کر خود اپنے رسول کو ہاتھ دے کر بچالیا۔آخر کا رجب ان کفار کے مظالم کی کوئی حد نہ رہی اور مسلمانوں کو ان کے وطن سے باہر نکال کر بھی وہ سیر نہ ہوئے توپھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ارشاد نازل ہوا اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ(الـحج :۴۰) خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دی اور اس اجازت میں یہ ثابت کردیا کہ واقع میں جو لوگ ظالم تھے اور شرارت ان کی حد سے بڑھ چکی تھی اور مسلمانوں کا صبر بھی اپنے انتہائی نقطہ تک پہنچ چکا تھا۔اب خدا نے فرمایا کہ جن لوگوں نے تلوار سے مقابلہ کیا وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جاویں اور گو یہ چند اورضعیف ہیں مگر میں دکھا