ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 266

قرآن میںکوئی تغیر کیا اورنہ پہلی شریعت کا جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لائے تھے ایک شوشہ اور نقطہ میں نے بدلا بلکہ میں قرآن اور احکام قرآنی کی خدمت اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک مذہب کی خدمت کے واسطے کمربستہ ہوں اور جان تک میں نے اپنی اسی راہ میں لگادی ہے اور میرا یقین کامل ہے کہ قرآن کے سواجو کامل، اکمل اورمکمل کتاب ہے اوراس کی پوری اطاعت اور بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے نجات ممکن ہی نہیں اورقرآن میں کمی بیشی کرنے والے اورآنحضرتؐکی اطاعت کا جؤا اپنی گردن سے اتار نے والے کو کافر اورمرتد یقین کرتا ہوں تو پھر اس صورت میں اورباوجود میری صداقت کے ہزارہا نشان ظاہر ہوجانے کے جو کہ خدا نے آج تک میری تائید میں آسمان اور زمین پر ظاہر کئے پھر مجھے جو شخص کاذب اور مفتری اوردجّال کے نام سے پکارتا ہے یا جو میری پروا نہیں کرتا اور میری آواز کی طرف کان نہیں دھرتا یقیناً جانو کہ خدا بغیر مواخذہ اسے ہرگز ہرگز نہ چھوڑے گا۔اسلام کی کشتی غرق ہونے کو ہے۔زمانہ شہادت دے رہا ہے اوروقت پکار پکار کر ضرورت کو محسوس کررہا ہے۔اندرونی حالت ایسی خطرناک ہے کہ اس سے ہرگز ہرگز کسی کا دل مطمئن اورخوش نہیں ہوسکتا۔بیرونی حملے ایسے خطرناک ہیں کہ قریب ہے کہ اسلام کو بیخ وبُن سے اکھاڑ پھینکیں تو کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ کسی کو خدا اسلام کی حمایت کے واسطے مبعوث فرماتا اورکوئی مجدّد بھیجتا جو اسلام کی ڈوبتی نائو کو سنبھال لیتا؟ صدی کاسر بھی گذر گیا مگر کُل وعدے جھوٹے ہی جھوٹے نکلے؟ توپھر تم ہی بتائو کہ کیا ابھی وہ وقت نہیں کہ خدا اسلام کی خبر گیری کرتا؟ یا کوئی اس سے بھی زیادہ خطرناک اورنازک حالت ہوگی؟ کیا جب اسلام بالکل مَر ہی جاوے گا اور اس میں کوئی دم باقی نہ رہے گا اس وقت کوئی آوے گا ؟پھر ایسے آنے والے سے کیا فائدہ اور کیا حاصل؟ یادرکھو کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو پھر اسلام بھی جھوٹا ہے اوراگر اسلام بھی دوسروں کی طرح ایک مُردہ مذہب ہے توپھر اسلام میں کیا بڑائی ہے اوراس کی کیا خصوصیت؟ توحید جس کا ہم تم کو ناز ہے اس کے توبرہمواورآریہ بھی دعویدار ہیں۔ایک شخص نے اسی لاہور میں ایک دفعہ لیکچر دیا تھا کہ ہم لوگ