ملفوظات (جلد 10) — Page 265
دعویٰ کرے کہ خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے یا وحی یا الہام کرتا ہے حالانکہ اسے نہ کوئی وحی ہوتی ہے اور نہ الہام اورنہ خدااس سے کبھی ہمکلام ہوا حتی کہ جھوٹی خواب کا بنالینا بھی اسی میں داخل ہے۔غرض ایک تویہ اَمر کہ خدا پر افترا کرنا حالانکہ خدا جانتا ہے کہ وہ کاذب ہے۔دوسرے وہ شخص خدا کے بڑے سخت غضب اورعتاب کا مورد ہوگا جو ایک صادق اورخدا کی طرف سے آنے والے کا انکار کرتا ہے۔بہر حال ہمارا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ہمیشہ سے چلی آئی ہے اور اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے عملی طورپر ایک سلسلہ نبوت قائم کرکے دکھا دیا ہے۔اس سے اس قدر فائدہ تو اٹھانا چاہیے کہ جہاں اَوراپنے دنیوی کاروبار کے واسطے اتنی سرگردانی اورمحنت اورکوشش کرتے ہو اس بات کی بھی کچھ تحقیقات توکر وکہ آیا جو اپنے کاروبار کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور اتنا بڑا دعویٰ پیش کرتا ہے اتنا تو معلوم کرلیں کہ یہ صادق ہے یا کاذب۔پھر خدا فرماتا ہے کہ جو شخص میرے رسول کی نافرمانی کرے گا میں اس کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس سے اس انکار کا مطالبہ نہ کرلوں۔معمولی حکام اورگورنمنٹ بھی اپنے احکام کی تحقیر کرنے والوں اورباغیوں کو بغیر سزا نہیں چھوڑتی توپھر وہ خداہے اور احکم الحاکمین ہے ذرّہ ذرّہ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر اس کے مرسل کی نافرمانی اوراس کے احکام کی ہتک کرنے والا کس طرح امن میں رہ سکتا ہے۔صداقت مسیح موعود علیہ السلام اگر میرے ساتھ خدا کا کوئی نشان نہ ہوتا اور نہ اس کی تائید اورنصرت میرے شاملِ حال ہوتی اور میں نے قرآن سے الگ کوئی راہ نکالی ہوتی یا قرآنی احکام اور شریعت میں کچھ دخل وتصرّف کیا ہوتا یا منسوخ کیا ہوتا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے باہر کوئی اورنئی راہ بتائی ہوتی توالبتہ حق تھا اور لوگوں کا عذر معقول اورقابل قبول ہوتا کہ واقع میں یہ شخص خدا اور خدا کے رسول کا دشمن اور قرآن اور تعلیم قرآن کا منکر اور منسوخ کرنے والا ہے، فاسق ہے، فاجر ہے، مرتد ہے، مگر جب میں نے نہ