ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 152

وفاتِ مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ نے تو حضرت عیسٰیؑ کا قصہ ہی تمام کر دیا ہے جہاں یہ سوال وجواب ہے کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ (المآئدۃ: ۱۱۸) اس آیت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ایک تو حضرت عیسٰیؑ کا وفات پا جانا اور دوسرے ان کا دوبارہ دنیا میں نہ آنا۔کیونکہ یہ سوال وجواب قیامت کے دن کو ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کا یہ سوال حضرت عیسٰیؑ سے کہ کیا تم نے عیسائیوں کو یہ شرک کی تعلیم دی تھی اور حضرت عیسٰی ؑکا یہ جواب دینا کہ یاالٰہی! یہ میری وفات کے بعد بگڑے ہیں۔مجھے اس بات کا علم نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کیسے عقائد اختیار کر لیے۔میں نے تو ان کو صرف توحید کی تعلیم دی تھی۔اس سوال وجواب سے صاف صریح اور واضح طور معلوم ہوتاہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے ہیں اور وہ دنیا میں دوبارہ نہیں آئیں گے ورنہ اگر وہ دوبارہ کبھی دنیا میں آئے ہوتے اور ان کی گندی تعلیم اور مشرکانہ عقائد کی اصلاح کی ہوتی۔صلیب توڑی ہوتی اور خنزیر قتل کئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو ایسے صریح جھوٹ سے سرزنش نہ کرتا؟ اور وہ ایسی جرأت اور دلیری سے حضورِ الٰہی کے سامنے قیامت کے دن ایسا جھوٹ بولتے ؟ ہرگز نہیں۔پس واقعی اور حق بات یہی ہے کہ حضرت عیسٰیؑ وفات پا چکے اور وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا قول ہوا اس کی تصدیق آنحضرتؐنے فعل سے کردی اور آپ نے معراج کی رات حضرت عیسیٰ ؑ کو حضرت یحیٰیؑ کے پاس بیٹھے دیکھا غور کا مقام ہے کہ زندہ کو مُردہ سے کیا تعلق اور کیا کام؟ حیات اور وفات تو دو ضدیں ہیں جس طرح نور اور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتا۔اسی طرح مُردے اور زندہ لوگوں کا بھی آپس میں کوئی تعلق نہیں کہ ایک جگہ رہیں بلکہ حضرت عیسٰیؑ کے واسطے تو کوئی الگ کوٹھڑی درکار تھی۔مسیح موعود ؑکی آمد اور پیشگوئیوں کا ظہور اس کے بعد اور زیادہ تشریح بخاری اور مسلم نے کر دی ہے جنہوں نے آخری زمانہ کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ایک نئی سواری کا ذکر کرکے یہ کہا کہ لَیُتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْـھَا اور قرآن شریف نے اسی مضمون کو عبارت ذیل میں بیان فرما کر اور بھی صراحت کر دی کہ