ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 151

چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اُصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ (صٓ:۵۱) یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لیے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بدکار اور خدا سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا اُن کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرمایا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف:۴۱) غرض یہود کا اعتراض تو یہی تھا کہ نعوذ باللہ حضرت عیسٰیؑ چونکہ سولی چڑھائے گئے ہیں اس واسطے وہ ملعون ہیں اور صاف بات ہے کہ ملعون کا رفع روحانی نہیں ہو سکتا۔اسی کے جواب میں قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ(النّسآء :۱۵۹) اچھا ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر یہودیوں کا یہی اعتراض تھا کہ عیسٰیؑ کا رفع جسمانی نہیں ہوا تو پھر قرآن شریف جو کہ ان دونوں قوموں میں حَکَم ہوکر آیا ہے اس نے یہود کے اس اعتراض کا کیا جواب دیا ہے ؟ کیا وجہ کہ قرآن شریف نے یہود کے اصل اعتراض کا تو کہیں جواب نہ دیا اور رفع روحانی پر اتنا زور دیا اور رَفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ فرمایا رَفَعَہُ اللّٰہُ اِلَی السَّمَآءِ کیوں نہ فرمایا ہے؟ عرشِ الٰہی ایک وراء الورا مخلوق ہے جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الٰہی آسمان سے قریب اور زمین سے دُور ہے۔لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقاد رکھتا ہے عرش مقام تنزیہ ہے اور اسی لیے خدا ہر جگہ حا ضر نا ظر ہے جیسا کہ فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ(الـحدید:۵)اور مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ (المـجادلۃ : ۸)اور فرماتا ہے کہ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ(قٓ: ۱۷) غرض اصل جھگڑا تو صرف ان کے رفع روحانی اور مقرب بار گاہِ سلطانی ہونے کے متعلق تھا سو اللہ تعالیٰ نے اس کا فیصلہ ہی کر دیا یہ فرما کر بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ اب کوئی بتائے کہ بھلا اس سے ان کا آسمان پر چڑھ جانا کیسے ثابت ہوتا ہے۔کیا خدا آسمان پرہے اور زمین پر نہیں؟