ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 150

جاوے۔بلکہ خا رجی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ حضرت علیؓنے نعوذ باللہ اپنے اسی ارادے کو پورا کرنے کے واسطے خود دانستہ حضرت فاطمہؓ کو زہر دے کر مار دیا تھا۔اور آخر کار اس طرح سے اپنے اس ارادے کو پورا بھی کر لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے متعلق قرآن شریف نے فرمایا ہے کہ وہ امہات المؤمنین ہیں تو حضرت علیؓ گویا مدت تک ماں سے جھگڑا کرتے رہے ہیں۔حضرت حسنؓنے حضرت معاویہ کے مقابلہ میں ملک ہی چھوڑ دیا تھا مگر دیکھو حضرت علی ؓ نے ماں سے جھگڑا نہ چھوڑ ا بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اوّل اوّل حضرت ابو بکرؓ کی بیعت سے بھی تخلّف کیا تھا۔مگر پھر گھر میں جا کر خدا جانے یک دفعہ کیا خیال آیا کہ پگڑی بھی نہ باندھی اور فوراً ٹوپی سے ہی بیعت کرنے کو آگئے اور پگڑی پیچھے منگائی۔معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں خیال آگیا ہو گا کہ یہ تو بڑی معصیت ہے۔ا سی واسطے اتنی جلدی کی کہ پگڑی بھی نہ باندھی اصل بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں قرآن شریف میں تدبّر نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔مسیح علیہ السلام کا رفع وفات مسیحؑ پر فرمایا کہ قرآن شریف یہود ونصاریٰ کے اختلافات کے لیے بطور حَکَم ہے اصل جھگڑا تو یہ تھا کہ توریت میں لکھا تھا کہ جو سولی پر لٹکایا جاوے اس کا رفع روحانی نہیں ہوتا اور وہ اس قابل نہیں ہوتا کہ خدا کی طر ف سے ایسے شخص کو خلعت نبوت عطا کیا جاوے بلکہ ملعون اور لعنتی ہوتا ہے۔سولی جرائم پیشہ لوگوں کی سزا ہے اور جو جرائم پیشہ لوگوں کی سزا سے موت کا لقمہ بن جاوے وہ اس قابل کہاں ہوتا ہے کہ اس کا رفع روحانی ہو۔غرض ان یہود کا دعویٰ تو صرف یہی تھا کہ حضرت عیسٰیؑ کا رفع روحانی نہیں ہوا۔وہ حضرت موسٰی کے رفع روحانی کے قائل تھے نہ کہ رفع جسمانی کے۔رفع جسمانی کا تو ان کے دلوں میں خیال تک بھی نہ تھا۔پس سچی بات یہی ہے کہ مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلّم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات رفع روحانی ہوا کرتا ہے۔اور یہی قابل بڑائی بات ہے۔رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی اس میں فضیلت مدّ نظر ہے