ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 138

عَلٰى بَصِيْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِيْ(یوسف:۱۰۹) اس اعتراض کا جواب کہ مسلمانوں نے جنگوں میں لونڈیاں کیوں بنائیں ؟ ایک دوسرے اعتراض پر کہ مسلمان لوگ جو جنگوں میں لونڈیاں بنا لیا کرتے تھے یہ بڑا ظلم اور وحشت ہے۔فرمایا کہ مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا تھا سب کچھ کفّار مکہ کے جور و ستم او رظلم وتعدّی کے بعد کیا تھا۔ان کے مظالم کے کارنامے دیکھ کر پھر مسلمانوں پر اعتراض کرناچاہیے۔بھلا غور کرو کہ مکہ میں آپ کی زندگی کس طرح گذری ہے؟ کس غربت اور انکساری سے اہل مکہ کے تشدد اور مظالم کا مسلمان نشانہ بنتے رہے تھے کہ آخر ان کی شرارتوں سے تنگ آکر آپؐکو اپنا عزیز وطن بھی چھوڑنا پڑا۔اس زندگی میں ایک مسلمان بیوی کا ایک جگر خراش واقعہ ہے جو کفّار مکہ کے جورو ظلم کا مُشتے نمونہ از خر وارے است۔ہماری فطرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس ظلم کی تفصیل اور تشریح کریں۔جنہوں نے وہ واقعہ کتب تواریخ میں پڑھا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ کیسا جانکاہ واقعہ ہے۔غرض مسلمانوں نے جو کچھ بھی کیا ہے دفاعی رنگ میں کیا ہے۔مقابل لوگوں نے پہلے وہ سارے کام کئے تھے بعد میں مسلمانوں نے کئے۔جیسا جیسا انہوں نے کیا تھا ویسا ان سے کیا گیا۔جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا( الشّورٰی:۴۱) اصل بات یہ ہے کہ دنیا کے انتظام کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو حکومتیں بنائی ہیں۔ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ہمارے رسول اکرمؐکو یہ دونوں حکومتیں عطا کی گئی تھیں۔پس شریروں، بدمعاشوں، لٹیروں، راہزنوں کو ان کی شرارتوں کی سزا دینی ملک میں امن قائم کرنے کے واسطے ضروری تھی۔مدینہ کے لوگوں نے آپؐکو اس وقت اپنا ظاہری بادشاہ بھی مان لیا تھا۔اکثر مقدمات کے فیصلے آپؐ سے ہی کراتے تھے۔چنانچہ ایک مقدمہ ایک مسلمان اور یہودی کا تھا۔آپؐنے یہودی کو اس میں ڈگری دی تھی۔بعض وقت آپؐنے کفّار کے جرائم ان کو معاف بھی کئے اور بعض رسوم بد کو آپ نے مقابلہ میں بھی ترک کر دیا ہے۔چنانچہ کفّار مکہ لڑائی میں مسلمان مُردوں کی بے حرمتی کیا کرتے تھے۔ناک کان کاٹ لے جاتے تھے مگر آنحضرتؐنے مسلمانوں کو اس رسم بد کے ترک کر دینے کا حکم دیا تھا۔