ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 139

غرض ان معترضوں کو دونوں آنکھوں سے کام لینا چاہیے۔دو آنکھوں کے ہوتے کا نے کیوں بنتے ہیں ؟ کفّار مکہ کے مظالم کو پہلے مطالعہ کریں پھر مسلمانوں کی اگر کوئی زیادتی ثابت ہو تو ان کو حق ہے۔مسلمانوں کے تمام جنگ اور کفّار کے ساتھ تمام سلوک دفاعی رنگ میں ہیں۔ابتدا ہرگز ہرگز مسلمانوں نے کبھی نہیں کی۔اچھا اب دیکھو! یہ سر حدی لٹیرے جو آئے دن گورنمنٹ کی رعایا کے جان ومال پر حملے کرتے ہیں اور بدامنی پھیلاتے ہیں تو کیا گورنمنٹ کو چپکے بیٹھے رہنا چاہیے اور ان کی سر کوبی اور سزا کی کوئی مناسب تجویز نہیں کرنی چاہیے ؟ ذرا غور کرو اور سوچو!۱ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) دینی ضرورت کے لئے چندوں کی ضرورت فرمایا۔دینی ضروریات کے انجام دینے کے واسطے چندوں کی ضرورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پیش آئی تھی۔دیکھو ہماری جماعت جو اس وقت چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے اگر اس میں سے صرف دس ہزار آدمی جو خواہ غریب کسان ہی ہوں اور اخلاص سے ضروریات دینی کے واسطے اپنے نفس پر وہ اگر صرف آٹھ آنے (۸؍) ماہوار ہی مقرر کر لیں اور التزام سے ماہوار ادا کرتے رہیں تو پانچ ہزار روپیہ ماہوار کی کافی امداد دینی ضروریات کی انجام دہی کے واسطے پہنچ سکتی اور یہ اَمر جفا کش محنتی اور دیانتدار واعظوں کے ذریعہ سے اچھی طرح سے پورا ہو سکتا ہے جو لوگوں کو دینی ضروریات سے آگا ہ کرتے رہیں۔فرمایا کہ سلسلہ خطوط کے دیکھنے سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کس قدر لوگوں کے خط ہر روز بیعت کے واسطے آتے ہیں اور یوں بھی کوئی ہفتہ خالی نہیں جاتا کہ دس بیس آدمی بیعت نہ کرتے ہوں۔اب اس طرح سے بیعت کے رجسٹروں کی تعداد میں تو روز افزوں ترقی ہے مگر یہ رجسٹر (یعنی باقاعدہ چندہ دہندگان کا ) اپنی اسی حالت پر ہے۔اس میں کوئی نمایا ں ترقی نہیں ہوتی۔اصل وجہ یہی ہے کہ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۱۴؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۲،۳