ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 137

کے کرنے کا ہمار ادعویٰ ہے۔مجدّد صاحب لکھتے ہیں کہ یہی خوابیں اور الہامات جو گاہ گاہ انسان کو ہوتے ہیں اگر کثرت سے کسی کو ہوں تو وہ محدّث کہلاتا ہے۔غرض یہ سب کچھ ہم نے اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں مفصل لکھ دیا ہے۔اس کا مطالعہ کر کے تسلّی کر لیں۔۱ ۷؍مارچ ۱۹۰۸ء (بوقتِ سیر) تحویلِ قبلہ کی حقیقت کسی آریہ کے اس اعتراض پر کہ نعوذ باللہ آنحضرتؐکو خود اپنی وحی اور الہامات پر یقین او ر وثوق نہ تھا اسی واسطے تحویلِ قبلہ ہوئی۔فرمایا کہ یہ نادان لوگ نہیں جانتے کہ تحویلِ قبلہ اور یہ انقلاب اللہ تعالیٰ نے اس واسطے کرائے کہ تا یہ ظاہر ہو جاوے کہ مسلمان کعبہ پر ست نہیں ہیں۔ہر دو متبرک مقامات جن کی بزرگی اور عزت کی وجہ سے کبھی کسی زمانے میں کسی کو ان کی پرستش کا خیال ہو سکتا تھا ان کو پیٹھ کے پیچھے کراکے اس اَمر کا اظہار عام طور پر کرا دیا کہ مسلمان واقعی اور حقیقی طور سے خد ا پرست ہیں نہ کہ کعبہ پرست۔بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں پر حجر اسود کی پر ستش کا الزام دئیے ہی جاتے ہیں۔صاف بات ہے کہ عبادت کے لئے انسان کو کسی نہ کسی طرف تو منہ کرنا ہی پڑتا ہے۔پس ایک شخص تو خود اپنی خواہش سے کسی طرف کو پسند کرتا ہے اور دوسرا حکمِ الٰہی سے ایک خاص طرف منہ کرتا ہے۔بھلا بتاؤ تو سہی ان میں سے کون اچھا ہے ایک تو حکم پرست ہے اور دوسرا نفس پرست۔بایں ہمہ یہ لوگ مسلمانوں کو کعبہ پرست کہتے ہوئے شرماتے کیوں نہیں؟ پس آنحضرتؐکا تحویلِ قبلہ کرنا اسی حقیقت پر مبنی تھا کہ مسلمان خاص مؤحد اور توحید کے پابند ہو جاویں۔کعبہ پرستی کا وہم تک بھی ان کے دل سے نکل جاوے نہ کسی تلوّن اور یقین کی کمی کی وجہ سے جیساکہ نادان آریوں کا وہم ہے کیونکہ آپؐتو صاف کہتے ہیں قُلْ هٰذِهٖ سَبِيْلِيْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ ۱ الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۱۰؍مارچ ۱۹۰۸ء صفحہ ۴، ۵