ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 102

چھوڑ دے تو سب دہر یہ بن جائیں۔پس وہ اپنی ہستی کا ثبوت دیتا رہتا ہے اور یہ زمانہ تو بالخصوص اس بات کا محتاج ہے۔جس چیز کی حکومت ہو اس کا اثر ظاہر ہو جاتا ہے آج کل اگر صالح آدمی جس نے حق پا لیا ہے خیال پر اثر نہیں ڈال سکتا تو معلوم ہوا کہ ضلالت کی حکومت ابھی باقی ہے۔جب ایسی ہوا چلتی ہے تو سب اس کے اثر سے متأثر ہوجاتے ہیں۔مومن اگرچہ بچا رہتا ہے مگر دوسروں پر اثر نہیں ڈال سکتا۔ضلالت کے رُعب کا یہ حال ہے کہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ ہیں اُن سے مذہب کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہتا کہ شاید یہ ناراض ہو جائیں یا مجھ سے ہنسی ٹھٹھا ہو۔حق کا اعلان مگر صحابہ کرام کی طرف دیکھنا چاہیے کہ اسلام کے ضعف کی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شاہوں کو خط لکھ دیا۔ا س وقت ایسا مہذبانہ زمانہ بھی نہیں تھا نہ یہ امن کی صورت۔صحابہ ؓنے ان خطوط کو پہنچایا اور بر سر دربار اپنے عقائد کو کھول کر بیان کیا۔ایک عیسائی بادشاہ کو جب اسلام کا پیغام پہنچا اور اس نے صحابہ ؓسے کلامِ الٰہی سنا تو وہ بول اُٹھا یہ اس کا کلام معلوم ہو تا ہے جس نے تورات نازل کی اور کہا اگر اس نبی کے پاس میں جاسکتا تو اس کے قدم چومتا۔پادریوں کو بُلا کر کہا۔دیکھو! اسلام کیسا عمدہ مذہب ہے کیا تم اسے پسند کرتے ہو ؟ جب ان سے مخالفت محسوس کی تو کہہ دیا کہ میں تو تمہیں آزماتا تھا۔یہ کمزوری دنیا کی حرص کا نتیجہ تھی جن میں دنیا پرستی نہیں و ہ حق کہنے اور حق کا اعلان کرنے سے نہیں ڈرتے اور ان کی خد ا مدد کرتا ہے۔قولِ مُوَجّہ کی ضرورت ہماری جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ ہر طبقہ کے انسانوں کو مناسب حال دعوت کرنے کا طریق سیکھے۔بعض کو باتوں کا ایسا ڈھنگ ہوتا ہے کہ جوکچھ کہنا ہوتا ہے وہ کہہ لیتے ہیں اور اس سے نا راضی بھی پیدا نہیں ہوتی۔بعض ظاہر میں خبیث معلوم ہوتے ہیں جن سے نا اُمید ی ہوتی ہے مگر وہ قبول کر لیتے ہیں اور بعض غریب طبع دکھائی دیتے ہیں اور ان پر بہت کچھ امید ہو تی ہے مگر وہ قبول نہیں کرتے اس لیے قولِ مُوَجّہ کی ضرورت ہے جس سے آخر کار فتح ہوتی ہے۔