ملفوظات (جلد 10) — Page 103
دہلی میں سخت مخالفت ہوئی۔آخر مَیں نے کہا کہ تیرہ سو برس وہ نسخہ (حیاتِ مسیح ) آزمایا۔اس کا نتیجہ دیکھا کہ کئی مرتد ہو گئے۔اب یہ نسخہ (وفاتِ مسیح ) آزما دیکھو۔دیکھو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ ایک شخص بےاختیار اُٹھ کھڑا ہوا۔اور کہا حق وہی ہے جو آپ فرماتے ہیں۔غرض قولِ مُوَجّہ بڑی نعمت ہے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔ع ایہو ہیگی کیمیا جو کوئی جانے بول پیغام حق پہنچانے کا طریق ہر ایک کو ایسی بات کرنی نہیں آتی۔پس چاہیے کہ جب کلام کرے تو سوچ کر اور مختصر کام کی بات کرے۔بہت بحثیں کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔پس چھوٹا سا چٹکلہ کسی وقت چھوڑ دیا جو سیدھا کان کے اندر چلا جائے پھر کبھی اتفاق ہوا تو پھر سہی۔غرض آہستہ آہستہ پیغام حق پہنچاتا رہے اور تھکے نہیں کیونکہ آجکل خدا کی محبت اور اس کے ساتھ تعلق کو لوگ دیوانگی سمجھتے ہیں۔اگر صحابہ ؓ اس زمانہ میں ہو تے تو لوگ انہیں سودائی کہتے اور وہ انہیں کافرکہتے۔دن رات بیہودہ باتوں اور طرح طرح کی غفلتوں اور دنیاوی فکروں سے دل سخت ہوجاتا ہے۔بات کا اثر دیر سے ہوتا ہے۔ایک شخص علیگڑھی غالباً تحصیلدار تھا۔میں نے اُسے کچھ نصیحت کی۔وہ مجھ پر ٹھٹھا کرنے لگا۔میں نے دل میں کہا میں بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے کا۔آخر باتیں کرتے کرتے اس پر وہ وقت آگیا کہ وہ یا تو مجھ پر تمسخر کر رہا تھا یا چیخیں مار مار کر رونے لگا۔بعض وقت سعید آدمی ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے شقی ہے۔یاد رکھو! ہر قفل کے لیے ایک کلید ہے۔بات کے لئے بھی ایک چابی ہے۔وہ مناسب طرز ہے۔جس طرح دواؤں کی نسبت مَیں نے ابھی کہا کہ کوئی کسی کے لئے مفید اور کوئی کسی کے مفید ہے۔ایسے ہی ہر ایک بات ایک خا ص پیرائے میں خا ص شخص کے لئے مفید ہو سکتی ہے۔یہ نہیں کہ سب سے یکساں بات کی جائے۔بیان کرنے والے کو چاہیے کہ کسی کے بُرا کہنے کو بُرا نہ منائے بلکہ اپنا کام کئے جائے اور تھکے نہیں۔امراء کا مزاج بہت نازک ہوتا ہے اور وہ دنیا سے غافل بھی ہوتے ہیں بہت