ملفوظات (جلد 10) — Page 101
آخری علاج ہر نبی کے زمانہ میں کچھ نہ کچھ خونریزی ہوئی۔مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ(الانفال:۶۸) انسانوں کے ہاتھوں پر جو امور مقدر تھے وہ تو ختم ہو چکے۔اب خدا نے ایسے کل امور کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔یہ طاعون، زلزلے، طرح طرح کے امراض، مصائب سب خدا کی تلواریں ہیں۔تعجب ہے کہ حا دثے پر حادثے آتے ہیں مصیبت پر مصیبت آتی ہے مگر ہماری جماعت کے سوا دوسرا کوئی ان سے متأثر نہیں ہوتا حالانکہ یہ سب بلائیں اس لیے ہیں کہ لوگوں کی غفلت دور ہو وہ تضرّع اختیار کریں اور سمجھیں کہ خدا ہے۔دیکھو! ہر پہلو سے حا دثے واقعہ ہور ہے ہیں اور ابھی کیا معلوم کہ آگے آگے کیا ہونے والا ہے؟ ہمار ا مذہب تو یہ ہے کہ اب جو کچھ کرے گا خدا ہی کرے گا۔جرّاحی آخری علاج ہے اور علاج تو سب ہو چکے۔پس یہ آخری علاج ہے اب یابیمار مَرے گا یا صحت یاب ہو گا۔کئی لاکھ انسان مَر چکا ہے مگر عملی حالت دکھاتی ہے کہ ابھی کچھ بھی نہیں ہوا۔نیکی کی طرف سے بہت دُور ہیں اور بدی کی جانب قریب ہیں۔استغفار کرنا چاہیے۔آگے قاعدہ تھا کہ مسلمان بادشاہ عام طور پر وباؤں کے وقت انابت اِلَی اللہ اور دعا وصدقہ وخیرات کی طر ف توجہ دلاتے رہتے۔اب یہ بھی نہیں بلکہ خدا کا نام لینا بھی خلافِ تہذیب سمجھا جاتا ہے۔سلطان المعظّم۱ نے وزراء سے ایک اَمر کی نسبت مشورہ کیااور اس کے متعلق تجویزیں پوچھیں۔جب سب تجویزیں بیان ہو چکیں تو کہا اَور تو سب کچھ کہا مگر یہ کسی نے نہ کہا کہ دعا بھی کرو۔آخر مسلمان کا بچہ تھا۔کچھ نہ کچھ خدا پرستی تو تھی۔سلطان المعظّم جمعہ کی نماز کو بھی جاتا ہے۔فقراء سے بھی نیاز رکھتا ہے اس لئے اچھا ہے۔اس زمانہ کی ضلالت خدا تعالیٰ ابتداءِ زمانہ میں بولا کہ میں تیرا خدا ہوں۔ایسا ہی اخیر زمانہ میں بھی اس نے فرمایاکہ انا الموجود یا د رکھو کہ وہ ’’ہادی‘‘ ہے۔اگر ۱ حضور کا اشارہ غالباً سلطان ٹرکی کی طرف ہے۔(مرتّب)