مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 430

عزتش بخشد ز فضل و لطف و جود مہرومہ را پیشش آرد در سجود من نہ از خود ادعائے کردہ ام امر حق شد اقتدائے کردہ ام کارِحق است ایں نہ از مکرِ بشر دشمنِ این دشمن آں داد گر آں خدا کایں عاجزے راچیدہ ست رحمتش در کوئے ما باریدہ است مردم و جانان پس از مردن رسید گم شدم آخر رُخے آمد پدید میل عشق دلبرے پُرزور بود غالب آمد رختِ مارا در ربود من نہ دارم مایۂ کردارہا عشق جوشید و ازو شد کار ہا بہرمن شد نیستی طور خدا چون خودی رفت آمد آن نُورِ خدا روبدو کردم کہ روآن روئے اوست ہر دل فرخندہ مائل سوئے اوست در دو عالم مثل او روئے کجاست جز سر کوئش دگر کوئے کجاست آن کسان کز کوچۂ او غافل اند ازسگان کوچہ ہا ہم کمتراند ۱۰۳۔اپنے فضل لطف اور کرم سے اسے عزت بخشتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ میں گراتا ہے- ۱۰۴۔میں نے اپنے پاس سے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ خدا کے حکم کی پیروی کی ہے- ۱۰۵۔یہ خدا کا کام ہے نہ کہ انسان کا مکر اس کا دشمن اس عادل خدا کا دشمن ہے- ۱۰۶۔وہ خدا جس نے اس عاجز کو منتخب کیا ہے اس کی رحمت ہماری گلی میں برسی ہے- ۱۰۷۔جب میں مر گیا تو مرنے کے بعد میرا محبوب آگیا جب میں فنا ہو گیا تو اس کا چہرہ مجھ پر ظاہرہو گیا - ۱۰۸۔دلبر کے عشق کی رَو زوروں پر تھی- وہ غالب آگئی اور ہمارا سب سامان بہا کر لے گئی- ۱۰۹۔میرے پاس اعمال کا ذخیرہ نہیں بلکہ عشق جوش میں آیا اور اس سے یہ سب کام ہو گئے- ۱۱۰۔میرے لئے نیستی ہی خدا کا طور بن گئی جب خودی جاتی رہی تو خدا کا نور آگیا- ۱۱۱۔میں نے اسی کی طرف اپنا رخ پھیر لیا کیونکہ دیکھنے کے لائق وہی چہرہ ہے اور ہر مبارک دل اسی کی طرف مائل ہے- ۱۱۲۔دونو جہان میں اس کی طرح کا کوئی چہرہ کہاں ہے؟ اور اس کے کوچہ کے سوا اور کوئی کوچہ کہاں ہے؟ ۱۱۳۔وہ لوگ جو اس کے کوچہ سے غافل ہیں وہ گلیوں کے کتّوں سے بھی زیادہ ذلیل ہیں-