مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 431

خلق و عالم جملہ در شور و شراند عاشقانش در جہان دیگر اند آن جہان چون ماند برکس ناپدید از جہان آن کور و بدبختی چہ دید راہِ حق بر صادقان آسان تر است ہرکہ جوید دامنش آید بدست ہرکہ جوید وصلش از صدق و صفا رہ دہندش سوئے آن ربّ السّما صادقان را می شناسد چشم یار کیدومکر اینجا نمی آید بکار صدق می باید برائے وصل دوست ہرکہ بے صدقش بجوید حمق اوست صدق ورزی در جناب کبریا آخرش می یابد از یمن وفا صد درے مسدود بکشاید بصدق یار رفتہ باز مے آید بصدق صدق درزان را ہمین باشد نشان کزپئے جاناں بکف دارند جان دوختہ در صورت دلبر نظر و از ثناء و سَبِّ مردم بے خبر کارؔ عقبیٰ باعمل ہا بستہ اند رستہ آن دلہا کہ بہرش خستہ اند ۱۱۴۔مخلوقات اور دنیا سب شورو شر میں مبتلا ہے مگر اس کے عاشق اور ہی عا َلم میں ہیں- ۱۱۵۔وہ عا َلم جس شخص سے پوشیدہ رہا- اس بدبخت نے دنیا میں آکر دیکھا ہی کیا؟ ۱۱۶۔صادقوں پر خدا کا راستہ پانا آسان ہے جو خدا کو ڈھونڈتا ہے تو اس کا دامن اس کے ہاتھ میں آجاتا ہے- ۱۱۷۔جو بھی صدق وصفا کے ساتھ اس کا وصل چاہتا ہے اس کے لئے آسمانوں کا خدا وصل کا راستہ کھول دیتا ہے- ۱۱۸۔یار کی نظر سچوں کو پہچان لیتی ہے مکر اور چالاکی یہاں کام نہیں دیتی- ۱۱۹۔دوست کے وصل کے لئے صدق درکار ہے جو بغیر صدق کے اسے ڈھونڈتا ہے وہ بیوقوف ہے- ۱۲۰۔خدا کے حضور صدق کو اختیار کرنے والا آخر کار اپنی وفا کی برکت سے اسے پالیتا ہے- ۱۲۱۔سینکڑوں بند دروازے صدق کی وجہ سے کھل جاتے ہیں کھویا ہوا دوست صدق کی وجہ سے واپس آجاتا ہے- ۱۲۲۔سچوں کی یہی علامت ہے کہ محبوب کی خاطر ان کی جان ہتھیلی پر ہوتی ہے- ۱۲۳۔دلبر کی صورت پر ان کی ٹکٹکی لگی ہوتی ہے اور لوگوں کی تعریف اور مذمت سے وہ بے خبر ہوتے ہیں- ۱۲۴۔آخرت کے لئے ان کے سب عمل ہیں وہ دل نجات یافتہ ہیں جو خدا کے لئے زخمی اور شکستہ ہیں-