مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 429

ہرکہ آویزد بکار و بار حق اوستادہ ازپئے پیکار حق فانی ایم و تیرِ ما تیرِ حق است صیدِ ما دراصل نخچیر حق است صادقے دارد پناہِ آن یگان دست حق در آستینِ او نہاں ہرکہ با دست خدا پیچد زِ کین بیخ خود کندد چو شیطان لعین اے بسا نفسے کہ ہمچو بلعم است کار او از دست موسیٰ برہم است آمدم بروقت چون ابر بہار بامن آمد صدنشان لُطفِ یار آسمان از بہر من بارد نشان ہم زمین الوقت گوید ہر زمان ایں دو شاہد بہرِ من استادہ اند باز در من ناقصان افتادہ اند ہائے این مردم عجب کور و کراند صد نشان بینند غافل بگذرند این چنین اینان چرا بالا پرند یا مگر زان ذات بے چون منکر اند او چو برکس مہربانی می کند از زمینی آسمانی می کند ۹۲۔جو شخص خدائی کاروبار میں دخل انداز ہوتا ہے وہ دراصل خدا سے جنگ کرنے کھڑا ہوتا ہے- ۹۳۔ہم تو فانی لوگ ہیں اور ہمارا تیر خدا کا تیر ہے اور ہمارا شکار دراصل خدا کا شکار ہے- ۹۴۔صادق تو اس یکتا کی پناہ میں ہوتا ہے اور خدا کا ہاتھ اس کی آستین میں چھپا ہوا ہوتا ہے- ۹۵۔جو شخص دشمنی کی وجہ سے خدا کے ساتھ لڑتا ہے وہ شیطان لعین کی طرح اپنی ہی جڑ اکھیڑتا ہے- ۹۶۔بہت سے لوگ بلعم کی طرح ہیں جن کا کام موسیٰ کے ہاتھوں تہس نہس ہو جاتا ہے- ۹۷۔میں ابر بہار کی طرح وقت پر آیا ہوں اور میرے ساتھ خدا کی مہربانیوں کے سینکڑوں نشانات ہیں- ۹۸۔آسماں میرے لیے نشان برساتا ہے اور زمین بھی ہر دم یہی کہتی ہے کہ وقت یہی ہے- ۹۹۔میری تائید میں یہ دو گواہ کھڑے ہیں پھر بھی یہ بیوقوف میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں- ۱۰۰۔ہائے افسوس یہ لوگ عجب طرح کے اندھے اور بہرے ہیں سینکڑوں نشان دیکھتے ہیں پھر بھی غافل گزر جاتے ہیں- ۱۰۱۔یہ اس قدر کیوں اونچے اُڑتے ہیں (یعنی اتنے متکبرّ کیوں ہیں)شاید اس بے مثل ذات کے منکر ہیں- ۱۰۲۔وہ خدا تو جب کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے-