مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 428

کافرم گفتند و روہا تافتند آن یقین گویا دلم بشگافتند اندرینان خوب گفت آن شاہ دیں کافران دل برون چون مومنین ہر زمان قرآن مگر در سینہ ہا حُبّ دُنیا ہست و کبر و کینہ ہا دانش دیں نیز لاف است و گذاف پشت بنمودند وقت ہر مصاف جاہلانے غافل از تازی زباں ہم ز قرآن ہم ز اسرار نہان کبرِ شان چون تاکمال خود رسید غیرتِ حق پردہ ہائے شان درید دشمنان دین چون شمرِ نابکار دین چو زین العابدین بیمار و زار تن ہمی لرزد دل و جان نیزہم چون خیانتہائے ایشان بنگرم مکرہا بسیار کردند و کنند تا نظام کارما برہم زنند لیکن آن امرے کہ ہست از آسمان چون زوال آید برد از حاسدان من چہ چیزم جنگ شان با آن خداست کزدو دستش این ریاض و این بناست ۸۱۔انہوں نے مجھے کافر کہا اور منہ پھیر لیا اور یقین کر لیا کہ گویا انہوں نے میرا دل چیر کر دیکھ لیا ہے- ۸۲۔انہی کے بارے میں اس شاہِ دین نے کیا خوب فرمایا ہے کہ یہ لوگ دل کے کافر ہیں اور ظاہر کے مومن- ۸۳۔ان کی زبان پر قرآن ہے مگر ان کے سینوں میں دنیا کی محبت، تکبرّ اور عداوتیں ہیں- ۸۴۔دین کی سمجھ کا دعویٰ بھی صرف لاف وگزاف ہے کیونکہ ہر جنگ کے وقت انہوں نے پیٹھ دکھائی ہے- ۸۵۔یہ وہ جاہل ہیں جو عربی زبان سے ناواقف ہیں نیز قرآن اور اس کے باریک بھیدوں سے بھی- ۸۶۔جب ان کا تکبرّ اپنے کمال کو پہنچ گیا تو خدا کی غیرت نے ان کے پردے پھاڑ دئیے- ۸۷۔شمرنا بکار کی طرح یہ لوگ دین کے دشمن ہیں اور دین زین العابدین کی طرح بیمار اور کمزور ہے- ۸۸۔میرا بدن کانپ جاتا ہے اور جان ودل لرز جاتے ہیں جب میں ان کی خیانتیں دیکھتا ہوں- ۸۹۔انہوں نے بہت مکر کئے اور اب بھی کر رہے ہیں تا کہ ہمارے کام کے نظام کو درہم برہم کر دیں- ۹۰۔لیکن وہ بات جو آسمان کی طرف سے ہے اس پر حاسدوں کے حسد سے کیونکر زوال آسکتا ہے- ۹۱۔میں کیا چیز ہوں ان کی لڑائی تو اس خدا کے ساتھ ہے جس کے دونوں ہاتھوں سے یہ باغ اور یہ محل تیار ہوا ہے-