مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 422
تا مرا از قوم خود ببریدہ اند بہر تکفیرم چہا کوشیدہ اند افتراہا پیش ہرکس بردہ اند و از خیانتہا سخن پروردہ اند تا مگر لغزد کسے زاں افترا سادہ لوحے کافر انگارد مرا در رہ ما فتنہ ہا انگیختند بانصاریٰ رائے خود آمیختند کافرم خواندند از جہل و عناد این چنین کورے بدنیا کس مباد بخل و نادانی تعصب ہا فزود کین بجوشید و دوچشم شان ربود ما مسلمانیم از فضل خد مصطفی ما را امام و مقتدا اندرین دین آمدہ از ما دریم ہم برین از دار دنیا بگذریم آن کتاب حق کہ قرآن نام اوست بادۂ عرفان ما از جام اوست آں رسولے کش محمد ہست نام دامن پاکش بدست ما مدام مہر او باشیر شد اندر بدن جان شد و باجان بدر خواہد شدن ۱۵۔جب سے لوگوں نے مجھے اپنی قوم سے کاٹ دیا ہے تب سے انہوں نے میرے کافر بنانے میں کتنی کتنی کوششیں کی ہیں- ۱۶۔ہر شخص کے روبرو افترا پردازیاں کیں اور خیانت کے ساتھ خوب باتیں بنائیں- ۱۷۔تا کہ کوئی تو اس افترا کی وجہ سے پھسل جائے اور بھولا آدمی مجھے کافر سمجھنے لگے- ۱۸۔انہوں نے ہمارے راستے میں فتنے کھڑے کیے اور عیسائیوں کے ساتھ ساز باز کی- ۱۹۔جہل وعداوت کی وجہ سے مجھے کافر کہا۔کاش دنیا میں اتنا اندھا کوئی نہ ہو- ۲۰۔بخل ونادانی نے تعصب کو بڑھایا اور کینہ بھڑک کر ان کی دونوں آنکھیں نکال لے گیا- ۲۱۔ہم خدا کے فضل سے مسلمان ہیں۔محمد مصطفی ہمارے امام اور پیشوا ہیں- ۲۲۔ہم ماں کے پیٹ سے اسی دین میں پیدا ہوئے اور اسی دین پر دنیا سے گزر جائیں گے- ۲۳۔خدا کی وہ کتاب جس کا نام قرآن ہے ہماری شراب معرفت اسی جام سے ہے- ۲۴۔وہ رسول جس کا نام محمد ہے اس کا مقدس دامن ہر وقت ہمارے ہاتھ میں ہے- ۲۵۔اس کی محبت ماںکے دودھ کے ساتھ ہمارے بدن میں داخل ہوئی وہ جان بن گئی اور جان کے ساتھ ہی باہر نکلے گی-