مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 421

اے مرا روئے محبت سوئے تو بوئے انس آمد مرا از کوئے تو کس ازین مردم بماروئے نہ کرد این نصیبت بود اے فرخندہ مرد ہر زمان بالعنتے یادم کنند خستہ دل از جوروبیدادم کنند کس بچشم یار صدیقے نہ شد تا بچشم غیر زندیقے نہ کافرؔم گفتند و دجال و لعین بہر قتلم ہرلئیمے درکمین بنگر این بازی کنان راچون جہند از حسد برجان خود بازی کنند مومنے را کافرے دادن قرار کار جان بازیست نزد ہوشیار زانکہ تکفیرے کہ از ناحق بود واپس آید بر سر اہلش فتد سفلۂ کو غرق در کفر نہان ہرزہ نالد بہرکفر دیگران گر خبر زان کفر باطن داشتے خویشتن را بدترے انگاشتے ۵۔اے وہ کہ میری محبت کا رُخ تیری طرف ہے مجھے تیرے کوچہ سے انس کی خوشبو آتی ہے- ۶۔ان لوگوں میں سے کسی نے بھی ہماری طرف رخ نہ کیا اے نیک نصیب انسان یہ بات تیری قسمت میں ہی تھی- ۷۔یہ لوگ تو ہر وقت مجھے لعنت سے یاد کرتے ہیں اور ظلم وجفا سے مجھے دکھ دیتے رہتے ہیں- ۸۔یار کی نظر میں کوئی شخص صدیق قرار نہیں پاتا جب تک وہ غیروں کی نظر میں زندیق نہ ہو- ۹۔انہوں نے مجھے کافر دجال اور لعنتی کہا اور ہر کمینہ میرے قتل کے لئے گھات میں بیٹھ گیا- ۱۰۔ان بازیگروں کو دیکھ کہ کس طرح اچھلتے ہیں یہ حسد کے مارے اپنی جان سے ہی کھیلتے ہیں- ۱۱۔کسی مومن کو کافر ٹھیرانا سمجھ دار آدمی کے نزدیک بڑے خطرہ کی بات ہے- ۱۲۔کیونکہ جو تکفیر ناحق کی جاتی ہے وہ تکفیر کرنے والے کے سر پر ہی واپس پڑتی ہے- ۱۳۔وہ بے وقوف جو مخفی کفر میں غرق ہے وہ اوروں کے کفر پر ناحق بیہودہ غل مچاتا ہے- ۱۴۔اگر اسے اپنے باطنی کفر کی خبر ہوتی تو اپنے آپ کو ہی بہت بُرا سمجھتا-