مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 268
مکتوب نمبر۱ژ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبیّ اخویم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔اس وقت میں نہایت قلیل الفرصت ہوں۔مگر میں نے ارادہ کیا ہے کہ آپ کے شبہات کا جواب اپنے ایک رسالہ میں جو میں نے لکھنا شروع کیا ہے لکھ دوں۔یہ رسالہ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو نومبر۱۹۰۵ء تک ختم ہو جائے گا اور چھپ جائے گا۔یہ آپ کے ذمہ ہو گا کہ نومبر کے اخیر میں یا دسمبر ۱۹۰۵ء کے ابتداء میں مجھے اطلاع دیں تو میں یہ رسالہ آپ کی خدمت میں بھیج دوں اور میں امید رکھتا ہوں کہ رسالہ کے دیکھنے سے علاوہ آپ کے شبہات کے ازالہ کے اور بھی کئی قسم کی آپ کی واقفیت بڑھے گی۔اگرچہ میرے نزدیک یہ معمولی اعتراضات ہیں جن کا کئی متفرق کتابوں میں باربار جواب دیا گیا ہے۔مگر چونکہ آپ کی تحریر سے سعادت اور حق طلبی مترشح ہو رہی ہے۔اس لئے میں محض آپ کے فائدہ کے لئے پھر یہ تکلیف اپنے پر گوارا کر لوں گا کہ آپ کے فہم اور مذاق کے مطابق جہاں تک مجھ سے ہو سکے لکھ دوں گا۔آئندہ ہر یک امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔مجھے امید تھی کہ یہ باتیں ایسی سہل اور راہ پر پڑی ہیں کہ آپ تھوڑی سی توجہ سے خود ہی ان کو حل کر سکتے تھے۔لیکن اس میں کچھ مصلحت ِ الٰہی ہو گی کہ مجھ سے آپ نے جواب مانگا۔باقی خیریت ہے۔٭ ۱۷؍اگست ۱۹۰۵ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ٭ الفضل قادیان جلد۳۴ نمبر۱۴۸ مورخہ۲۶؍جون ۱۹۴۶ء صفحہ ۲