مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 267
حکیم محمد حسین صاحب قریشی لاہور کے مفرح عنبری کے خریدار تھے اور حکیم صاحب نے ایک دفعہ دوائی کے ساتھ حضرت اقدس کے دعاوی کے متعلق ایک اشتہار بھیج دیا تھا۔وہ اشتہار مولانا مرحوم کی خدمت میں پیش کیا۔مولانا مرحوم اس کو دیکھ کر چونک پڑے اور حضرت اقدس کے دعاوی کی تحقیقات میں اپنے تئیں ہمہ تن مصروف کر دیا۔قریباً دس سال تک ۱۹۰۲ء سے ۱۹۱۲ء تک تحقیقات میں مصروف رہے اور اس عرصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بھی خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دست ِمبارک سے آپ کو بہت سے خطوط لکھے۔……… حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مولانا مرحوم کا ذکر براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بھی کیا ہے۔آخر جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ۱۹۰۸ء میں انتقال ہو گیا تو حضرت خلیفہ اوّل کے عہد مبارک میں آپ کو شرح صدر ہوا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت نہ کر سکنے کے سبب سے افسوس کرتے ہوئے اس کبرسنی میں قادیان جا کر بیعت کرنے کا مصمم ارادہ کیا۔چنانچہ اپنے تین شاگردوں کو ہمراہ لے کر ۱۹۱۲ء کے اکتوبر میں دارالامان روانہ ہوئے اور راستہ میں ہندوستان کے مشاہیر علماء … سے ملاقات کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بحث مباحثہ کرتے ہوئے وارد دارالامان ہوئے۔اور حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے دست مبارک پر (۱۹۱۲ء میں)بیعت کر کے کچھ عرصہ وہاں ٹھہرنے کے بعد حسب اجازت حضرت خلیفۃ المسیح اوّل برہمن بڑیہ واپس آ گئے۔٭ فہرست مکتوبات بنام مولانا سیّد محمد عبد الواحد صاحب ٭ تلخیص از الفضل نمبر۱۰۲ جلد۳ ۱ مورخہ ۱۳؍اپریل ۱۹۲۶ء صفحہ ۹، ۱۰