مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 266
مولانا سیّد محمد عبد الواحد صاحب جماعت احمدیہ بنگال کے امیر حضرت مولانا سید محمد عبد الواحد صاحب جو کہ مشرقی بنگال کے ایک ممتاز خاندان کی یادگار اور صوبہ بنگال کے ایک فاقد النظیر و عدیم المثال محقق علامہ تھے اور جن کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے بنگال میں ہزاروں کی احمدیہ جماعت قائم کی ہے۔بتاریخ ۴؍ماہ رمضان جمعرات کے دن ۹ بجکر ۲۳ منٹ پر ۷۳ برس کی عمر میں اس دارفانی سے سرائے جاودانی کی طرف رحلت کر کے اپنے مولیٰ سے جا ملے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔حضرت مولانا مرحوم نے شہر ڈھاکہ کے گورنمنٹ عربی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد تکمیل علوم دینیہ کے لئے ہندوستان کا سفر اختیار کیا تھا اور ہندوستان کی مختلف درسگاہوں کو تنقیدی نگاہ سے معائنہ کرتے ہوئے لکھنؤ فرنگی محل کے مشہور علامہ مولانا مولوی عبد الحی صاحب کی شاگردی پسند فرمائی اور عرصہ دراز تک وہاں علم دین حاصل کرتے رہے۔مولانا صاحب مرحوم کے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مولانا عبد الحی صاحب نے نظام حیدرآباد کی حکومت میں ۵۰۰ روپیہ تنخواہ پر ایک جلیل القدر عہدے کے لئے بھیجنا چاہا لیکن بیماری کی وجہ سے آپ نے حیدرآباد کے گرم علاقہ میں جانا پسند نہ فرمایا۔پھر ایک دفعہ گورنمنٹ مدرسہ ڈھاکہ کے مدرّس دوم کے عہدہ کے لئے نامزد کئے گئے۔لیکن بیماری کی وجہ سے وہاں بھی نہ جا سکے۔مشیت ایزدی و مصلحت الٰہی سے آپ کو کسی عظیم الشان مقصد کے لئے برہمن بڑیہ میں رکھنا مقدر ہو چکا تھا۔آپ نے برہمن بڑیہ میں ہی غربت اور تنہائی کی زندگی کو پسند کیا۔برہمن بڑیہ کے مسلمانوں اور اسکول کمیٹی کے ممبروں کی خواہش اور درخواست پر یہاں کے قاضی اور مدرّس ہائی اسکول مقرر ہوئے اور اس طرح ایک عرصہ دراز گزار دیا۔اس اثنا میں آپ کی دیانت و تقویٰ و تبحر علمی نے اس اطراف کے لوگوں کو آپ کا گرویدہ بنا دیا اور جم غفیر کو آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل کر دیا۔آپ بنگال کے اُفق سعادت پر ایک درخشندہ ستارہ تھے۔جو بنگالیوں کے لئے نور ہدایت ہو کر چمکے………… آپ کو عمر کے آخیر حصہ میںمشیت الٰہی نے سلسلہ احمدیہ کی تخم ریزی کے لئے ا س طرح کھڑا کیا کہ آپ کے ایک دوست منشی دولت احمد خاں وکیل عدالت برہمن بڑیہ نے جو کہ