مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 223
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حضرت اقدس مُرشدنا و مہدینا مسیح موعود ومہدی معہود السلام علیکم اسٹیشن ریل کے قریب ایک انگریز سیّاح سے ملنے کا مجھے اتفاق ہوا۔جس کو میں نے حضورؑ کے دعویٰ اور دلائل سے اِطلاع دی تو اُس نے حضورؑ کی ملاقات کا بہت شوق ظاہر کیا۔وہ اُسی وقت ساتھ آتا تھا مگر میں نے کہا کہ میں پہلے حضورؑ سے اجازت حاصِل کر لوں۔اگر مناسب ہو تو بعد نماز ظہر میں اُن کو لے آئوں۔حضورکی جوتیوں کا غلام عاجز محمد صادق عفی اﷲ عنہ مکتوب نمبر۵۵ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مجھے معلوم نہیں کہ کیسا او رکس خیال کا انگریز ہے۔بعض جاسُوسی کے عہدے پر ہوتے ہیں اور بعد ملاقات خلاف واقع باتیں لِکھ کر شائع کرتے ہیں۔صرف یہ اندیشہ ہے۔جیسا کہ قنصل رُومی کا انجام ہوا۔والسلام مئی ۱۹۰۸ء۔لاہور مرزا غلام احمد یہ انگریز پروفیسر ریگ تھا۔اس کو میرے دوبارہ عرض کرنے پر حضرت صاحبؑ نے اجازت دے دی تھی۔ملاقات کے مفصل حالات کے واسطے ملاحظہ ہوذکر حبیب باب نمبر ۱۹