مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 212
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود و مہدی معہود ؑ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عاجز کو ہمیشہ کرایہ کے مکانات میں اِدھر اُدھر بہت سرگردانی رہتی ہے۔اور وہ بھی کوئی قریب نہیں ملتا۔مدّت کی بات ہے۔ایک دفعہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ غلام جیلانی والا مکان ملے گا تو تم کو دیا جائے گا۔مگر چونکہ اس جگہ مہمانخانہ کی تجویز ہے۔اس واسطے میں نے مناسب نہ جانا کہ یاد دلائوں۔اب اس وقت دو جگہیں خالی ہیں۔ایک تو سفید زمین جو مرزا سلطان احمد سے حضور نے لی ہے۔جہاں خیمہ لگا ہے۔اگر وہ حضور مجھے مرحمت فرماویں۔تو میں اپنے خرچ سے وہاں مکان بنوالوں۔دوم۔باورچی خانہ خالی ہو گیا ہے۔اگر اُن میں سے کوئی جگہ مجھے عطا فرمانا مناسب خیال فرماویں۔تو ہر دو قریب ہیں اور تکلیف بھی دور ہو۔یہ عاجز کا خیال ہے۔پھر جو حضور مناسب خیال فرماویں۔اُسی میں خوشی ہے۔خطاکار عاجز محمد صادق عفا اللہ عنہ مکتوب نمبر۴۳ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ افسوس ہے کہ اس وقت ایسی صورت ہے کہ ان باتوں میں مجبوری ہے۔جو حصّہ زمین سلطان احمد کی زمین کا ملا ہے۔بجز اس کے ملحق کرنے کے مہمانخانہ بالکل ناتمام ہے۔جو ہرگز کافی نہیں ہے اوردوسری زمین، جہاں سے لنگر خانہ اٹھایا ہے۔میر صاحب نے اپنی ضروریات کے لئے لے لی ہے۔مگر مجھے آپ کی حیرانی اور پریشانی کا بہت فکر ہے۔امید کہ انشاء اﷲ کوئی صورت پیدا ہو جائے گی۔آپ مطمئن رہیں۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ