مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 187
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ حضرت اقدس مرشدنا و مہدینا مسیح موعود و مہدی معہود ؑ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ میرے لڑکے محمد منظور نے ایک خواب دیکھا ہے کہ ’’ایک چیل ہمارے مکان کے صحن میں بیٹھی ہے اور ایک اُس کے ساتھ اَور ہے اور مجھے گیت سناتی ہے۔پھر وہ ایک کیڑا بن کر زمین میں گھس گئی۔‘‘ ’’پھر باہر نکلی اور مجھے پنجہ مارنا چاہا۔میںنے کہا میں تم کو روٹی دوں گا۔تب اُس نے پنجہ نہ مارا۔اور میں نے روٹی دے دی۔تب ہم نے اُس کے خوف سے مکان بدل لیا‘‘ تو وہ چیل وہاں بھی آ گئی اور کہنے لگی۔’’ میں سب شہروں اور گلیوں سے واقف ہوں۔مگر تم مجھ سے نہ ڈرو تم کو کچھ نہ کہوں گی مجھے روٹی دے دیا کرو۔‘‘ یہ لڑکے کا بیان ہے۔اس کی تعبیر سے مطلع فرماویں۔اگر غلام جیلانی والے مکان کے متعلق کچھ فیصلہ نہیں ہوا تو فی الحال میں وہی لے لُوں کیونکہ اس کی ہوا اُس کی نسبت جس میں ہم رہتے ہیں بہتر معلوم ہوتی ہے۔وہ کرایہ کے متعلق تو اب تنگ نہیں کرتے مگر اس میں ہوا اور روشنی نہیں ہے۔جیسا حضور فرماویں۔حضورکی جوتیوں کا غلام ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۳ء عاجز محمد صادق مکتوب نمبر ۱۳ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ چیل سے مُراد تو طاعون ہی معلوم ہوتی ہے۔معبّرین نے چیل سے مراد فرشتہ ملک الموت لکھا ہے۔کہ جو شکار کر کے آسمان کی طرف اُڑ جاتا ہے۔خدا تعالیٰ خیر رکھے ایسا نہ ہو کہ قادیان میں پھر طاعون پھیل جائے۔مکان کا بدلا لینا ضروری ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی اللہ عنہ