مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 168

رویہ سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے۔یہ الفاظ سن کر مولوی صاحب پر رقت طاری ہو گئی اور بے اختیار ہو کر کہنے لگے کہ شاہ صاحب میری بیعت کا خط لکھ دیں۔اس کے بعد ان بزرگان کا قادیان جانے کا پروگرام بنا اور زیارت حضرت مسیح موعود ؑ کے لئے قادیان روانہ ہو گئے۔منشی صاحب کے احمدی ہونے کے کچھ عرصہ بعد ان کے باقی افراد خانہ بھی جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔حضرت ڈاکٹر صاحب نے منشی رحیم بخش صاحب کو سیدناحضرت مسیح موعود ؑ کی کتاب ’’تحفہ گولڑویہ‘‘ مطالعہ کے لئے دی تھی جسے پڑھ کر منشی صاحب وفات مسیح کے قائل ہوئے۔حضرت ڈاکٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں منشی صاحب کا ایک خط پیش کیا جس میں آپ نے دو سوال لکھے تھے۔جن کا جواب حضرت مسیح موعود ؑنے تفصیلاً دیا۔ہمارے مہدی سیدنا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی تاثیر قدسی نے اشد ترین مخالف کو بھی ایک فنا فی اللہ وجود بنا دیا۔آپ بیعت کے بعد ایک کامیاب داعی الی اللہ بنے۔آپعموماً حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کے ہمراہ احمدیت کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے نکلتے۔آپ کی اس خدمت کی جھلک حضرت مسیح موعود ؑ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔’’خاکسار معہ سید عبد الستار شاہ صاحب ڈاکٹر رعیہ بماہ مئی ۱۹۰۶ء بحضور والا شان مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام بغرض زیارت قادیان دارالامان پہنچا۔بروقت رخصت حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا تعلق بوجہ ہم اعتقادی و ہم طریق مولوی محمد حسین بٹالوی و مولوی عبد الجبار غزنوی وغیرہ سے رہا ہے۔ان کو ہمارے دعویٰ میں شک ہے تو ان کو زبانی امورات ذیل سے آگاہ کردو۔شاید کوئی سعید فطرت سمجھ جائے… اس ارشاد کی تعمیل میں حضرت منشی صاحب بمعہ حضرت ڈاکٹرصاحب، صاحبان مذکور کے پاس گئے اور ان کو پیغام پہنچایا اور پھر حضرت مسیح موعودؑ کو اپنی کار کردگی بھی تحریر کی جس کے جواب میں حضرت مسیح موعودؑ نے ایک خط دستخطی آپ کو ارسال فرمایا جوذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔٭ ٭ تلخیص از سیرت حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان صفحہ ۶۱ تا ۷۰